آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چینی فضائیہ کی پروپیگنڈا ویڈیو کا پول کھل گیا
چینی فوج نے اپنی ایک پروپیگنڈا ویڈیو میں ہالی ووڈ کی بہت ہی کامیاب فلموں کے ویڈیو کلپس کا استعمال کیا ہے جس سے متعلق سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو میں فلم ’ٹرانسفارمرز‘ اور ’دی راک‘ کے کلپس استعمال کیے گئے ہیں۔
چینی فوج کی اس ویڈیو میں جوہری اسلحے سے لیس ایچ-6 بمباروں کو پیسفک جزیرے گوام کے امریکی فوجی ٹھکانوں پر فرضی حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
چینی مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم سینو ویبو پر اسے اب تک تقریبا 50 لاکھ افراد نے دیکھا ہے لیکن کئی صارفین نے اس ویڈیو کا مذاق اڑایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’چین کے لیے کاپی رائٹ کوئی مسئلہ نہیں۔‘
ایک صارف نے لکھا: ’ان برے ممالک کے کلپس استعمال نہ کریں۔ لوگ اسے ٹوئٹر پر دیکھ رہے ہیں اور ہمیں بیوقوف سمجھ رہے ہیں۔‘
دو منٹ کی اس ویڈیو کو ’گاڈ آف وار- اٹیک‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سنیچر کے روز اسے چینی فضائیہ نے جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو میں ڈرامائی قسم کی موسیقی بھی استعمال کی گئی ہے۔
اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ امریکہ کے اینڈرسن ایئر فورس اڈے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں لکھا گیا: ’فضائی سلامتی کے ذریعے یہ اپنے مادر وطن کی حفاظت کے لیے ہے۔ پورے اعتماد اور قابلیت کے ساتھ ہم اپنے مادر وطن کی حفاظت آسمان سے کرتے ہیں۔‘
لیکن چین کی فوج کی یہ پروپیگنڈا ویڈیو سوشل میڈیا پر ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ لوگوں نے ویڈیو کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ اس میں فلم ’ٹرانسفارمرز‘ کے علاوہ ’دی راک‘ اور ’ہارٹ لاکر‘ کے ویڈیو کلپس بھی لیے گئے ہیں۔
تاہم چینی فوج نے لوگوں کے اس دعوے پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
چینی فوج کے ایک قریبی ذرائع نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ فوج کے پروپیگنڈے کے محکمے کے لیے ہالی ووڈ کی فلموں کے ویڈیوکلپس کا استعمال عام ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے فوج کے ذرائع نے بتایا: ’فوج کے پروپیگنڈہ ڈیپارٹمنٹ کے تقریبا تمام افسران ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ ایسے میں امریکی جنگی فلموں کے کلپس ان کے ذہن میں بسے رہتے ہیں۔‘
تائیوان میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار کی روانگی کے بعد سے چینی افواج تائیوان کے قریب جنگی مشقیں کر رہی ہیں۔ چین ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
سنگاپور انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجی کے کولن کوہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس ویڈیو کو پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چین امریکی فوج کو متنبہ کررہا ہے کہ اگر تناؤ بڑھتا ہے تو گوام میں اس کا فوجی اڈہ خطرے سے باہر نہیں۔‘
بی بی سی نیوز میں چینی میڈیا پر گہری نظر رکھنے والی کیری ایلن کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 میں چین کے اعلی میڈیا ریگولیٹرز نے فوج کے پروپیگنڈے کے محکمہ سے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ کچھ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور غیر حقیقت پسندانہ چیزوں سے گریز کریں۔
یہ عجیب بات ہے کہ چین اپنی فوج کی حقیقی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے بیرون ملک بننے والی فلموں کا سہارا لے رہا ہے۔ چین کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ اپنے ملک میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایسے کام کرتا ہے۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ریڈ ٹیپ‘ کی وجہ سے گھریلو سامعین کو کیا دکھانا ہے چین اس کا فیصلہ کرنے سے بھی قاصر ہے لیکن سوشل میڈیا پر ہالی ووڈ کی فلموں کو پہچاننا کوئی مشکل کام نہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔