آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دانت اپنی فلنگ خود ہی کر سکیں گے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسا طریقۂ کار تلاش کیا ہے جس کے تحت دانتوں کو خود ہی سے ٹھیک ہو سکتے ہیں اور انھیں فلنگ یا بھرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
کنگز کالج لندن کی ایک ٹیم نے چوہوں پر کیے جانے والے ایک تجربے کے ذریعے بتایا ہے کہ ایک کیمیکل دانتوں کے گودے میں موجود خلیوں کو بڑھنے اور چھوٹی چھوٹی سوراخوں کو بھرنے میں مدد دیتا ہے۔
جراثیم کے ساتھ ختم ہونے والے سپنج کو پہلے اس دوا میں بھگویا گیا اور پھر اسے (کیویٹی) کیڑا لگنے والی یا دانت میں پیدا ہونے والے خالی جگہ میں رکھ دیا جاتا ہے۔
جیسے ہی یہ سپنچ ختم ہوجاتا ہے تو اس کی جگہ دانت کو ٹھیک کرنے کے لیے ڈینٹائن مادہ بھر دیا گیا۔
سائنس رپورٹس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس طریقے سے ’دانت مکمل اور قدرتی طور پر ٹھیک ہوسکتے ہیں۔‘
عام طور پر دانتوں کے ماہرین کو دانتوں کے خراب یا سڑنے کی صورت میں انھیں پارے کے ساتھ ایک سے زیادہ دھاتوں سے بنے ’املگم‘ یا سرامک پاؤڈر سے بھرنا پڑتا ہے۔
بعض اوقات کئی لوگوں کو اپنی زندگی میں ایسا کئی بار کروانا پڑتا ہے، لہذا محققین نے ایسا طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے دانتوں میں بننے والے سوارخوں قدرتی طور پر خود سے ہی ٹھیک ہو سکیں۔
محقیقن نے دریافت کیا کہ ٹائڈگلوسپ نامی ایک دوا سے دانتوں میں موجود گودے کے اندر سٹیم سیل کے بڑھنے کے عمل میں تیزی آئی جس کی وجہ سے چوہوں کے دانتوں میں بننے والی سراخوں کو اس دوا کی مدد سے صفر اعشاریہ ایک تین ملی میٹر تک بھرا جا سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محققین کی ٹیم میں شامل پروفیسر پال شارپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سپنج جرثیم کے ساتھ ہی ختم ہونے والا ہے جو کہ سب سے اہم بات ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ جگہ جہاں سپنج رکھا جاتا ہے منرلز سے بھر جاتی ہے اور ڈینٹائن مادہ چونکہ خود ہی بڑھتا ہے تو مستقبل میں اس کے دوبارہ ناکارہ ہونے کا امکان نہیں رہتا۔‘
اب محققین کی یہی ٹیم یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا اسی طریقے کے ذریعے بڑی سوراخوں کو بھی بھرا جا سکتا ہے۔
پروفیسر شارپ نے بتایا کہ یہ نیا علاج جلد ہی میسر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ اس علاج کو آنے میں بہت زیادہ وقت لگے گا، امید ہے کہ تین سے پانچ سالوں میں یہ ہر جگہ میسر ہوگا۔‘