سپر ٹیلی سکوپ اور دیو ہیکل کیمرے سے گوبھی کے راز آشکار

    • مصنف, جانتھن آموس
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی

دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے کے سینسر آزمانے کے لیے آپ کیا کریں گے؟ اس کے لیے آپ کو براکلی (گوبھی کی ایک قسم) کی تصویر لینا ہو گی۔

یہ شاید آپ کو کچھ عجیب سا لگے گا۔ لیکن روم میں پائے جانے والے اس پودے کے رومیسکو ورژن میں پائی جانے والی پیچیدہ اشکال کو اپنی تمام طرح تفصیلات کے ساتھ عکس بند کرنا ایک اچھی آزمائش ہو سکتی ہے۔

چلی کی ویرا ربون مشاہد گاہ میں نصب ہونے والے کیمرا کی کارکردگی ہی سب کچھ ہے۔

یہ تین اعشاریہ دو گیگا پکسل کا آلہ علم فلکیات کے بہت سے حل طلب سوالات کے جواب تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اور کون جانتا ہے۔۔ یہ شاید 'ڈارک اینرجی' اور 'ڈارک میٹر' کی الجھنوں کے سلجھانے کے قریب لے جائیں جو ان سب اجسام کے ارتقائی عمل میں بہت اہم ہے اور جنھیں ہم خلا کی وسعتوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

چلی کی مشاہدہ گاہ میں نصب کیا جانے والا آلہ 'وی آر او' وہ کچھ کرے گا جسے آسمان کے ایک عظیم نقشے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

اس مشاہدہ گاہ میں چند دنوں کے وقفے سے دس سال تک مسلسل آسمان کی تمام وسعتوں کا سروے کرتا رہے گا۔

روبن نہ صرف اربوں کھربوں ستاروں اور کہشکشاؤں کی جگہوں کے وقت درج کرے گا بلکہ ہر حرکت کرتی اور چکمتی شہ کا بھی ریکارڈ رکھے گا۔ اس سے جمع کیا جانے والا اعداد و شمار کا خزینہ آنے والی کئی دہائیوں تک سائنسدانوں اور تحقیق دانوں کو مصروف رکھے گا۔

لیکن اس نوعیت کے سروے کے لیے وی آر او کو ایک بہت ہی خاص کیمرا درکار ہو گا اس طرح کا کیمرہ جو امریکی ریاست کیلی فورنیہ میں نیشنل ایکسیلیٹر لیباٹری میں جوڑ کر بنایا جا رہا ہے۔.

اس کیمرے کا قلب 64 سینٹی میٹر وائڈ فوکل پلین اور 189 انفرادی سینسروں یا چارڈ کپل ڈیوائسز پر مشتمل ہو گا۔

ان سب اجزا کو جوڑنا اور ان کے پیچیدہ الٹرانکس کو ایک دوسرے سے ایسے منسلک کرنا کہ وہ بالکل ہم آہنگ ہو جائیں ایک بہت مشکل اور دقت طلب کام ہے۔

لیکن جو تصاویر منگل کو جاری کی گئیں ہیں ان سے نظر آتا ہے کہ یہ انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام خوش اسلوبی اور کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔

کیلی فورنیا کے ایس ایل اے سی میں کام کرنے والی ٹیم کو ابھی کیمرے کے تمام آلات موصول نہیں ہوئے ہیں جن میں ان کے عدسے بھی شامل ہیں لہذا اس نے 150 مائکرون پن ہول سے حاصل کیی گئی تصاویر سی سی ڈی پر منعکس کیں۔

گوبھی کی قسم کے پودے کا جان بوجھ کر انتخاب کیا گیا جس کی وجہ اس کی سطح کی پیچیدہ اشکال تھیں۔

تو یہ تصاویر کتنی معیاری تھیں۔ اگ آپ ان کو 'فل سائز' میں 'فل ریزولیوشن' پر دیکھنا چاہیں تو آپ کو 378 فور کے الٹرا ہائی ڈیفینیشن ٹی وی سکرین درکار ہو گی۔

’وی آر او کے ڈائریکٹر سٹیو کان نے کہا کہ 'اگر آپ کو یہ سروے مکمل کرنا ہے تو ہمیں بہت بڑی ٹیلی سکوپ اور بہت بڑا کیمرا چاہیے ہو گا۔'

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'تین ارب پکسل والا یہ کیمرا آسمان کے دس مربع ڈگری کے حصہ کا احاطہ کرے گا اور آپ کو اس کا احساس دے گا جو چاند سے چالیس گنا بڑا حصہ بنتا ہے۔ یہ کیمرا ہر پندرہ سیکنڈ کے بعد آسمان کی تصاویر لے گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ کیمرا آسمان کی گہرائیوں کی تصاویر بھی لے سکے گا لیکن سب سے اہم بات یہ کہ اس مدد سے یہ معلوم بھی ہو سکے گا کہ کسی ستارے کی چمک کم یا زیادہ ہوئی ہے اور ہر وہ شہ جو افق پر حرکت کرتی نظر آئے گی جن میں شہاب ثقاب اور سیارے بھی شامل ہیں۔

ویرا روبن بنیادی طور پر ایک امریکی منصوبہ ہے لیکن اس کی بین الاقوامی جہتیں بھی ہیں۔."

برطانوی سائنسدان جو کے آسمان کا سروے کرنے کے کام میں ماہر ہیں وہ اس مشاہدہ گاہ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے تجزیے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

وی آر او اپنے ایک ممکنہ کمزوری کی وجہ سے گذشتہ دنوں خبروں میں رہا ہے۔ اس کی یہ کمزوری مصنوعی سیاروں کے ایک بڑے جھرمٹ کی وجہ سے ہے جو بہت جلد خلاً میں بھیجا جا رہا ہے۔

خلا میں نچلے مداروں میں گردش کرنے والے بے شمار مواصلاتی خلائی جہاز کیمرے سے حاصل کیے جانے والا عکس میں خلل ڈال سکتے ہی۔

ارب پتی سرمایہ کار ایلن مسک کی کمپنی سپیس ایکس فی الوقت بہت سے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

پروفیسر کان نے کہا کہ وی آر او ایل مسک کی کمپنی کے ماہرین سے رابطے میں ہے اور اس مشکل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وی آر او کی تصاویر میں کوئی خلل نہ پڑے۔

اس مشاہدہ گاہ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ون ویب نامی کمپنی جو برطانیہ اور انڈیا کی مشترکہ کمپنی ہے اس سے بھی زیادہ قریبی رابطوں کی ضرورت ہے۔

مصنوعی سیاروں کا یہ جال سپیس ایکس کے سیاروں سے زیادہ مشکل کھڑی کرے گا کیونکہ خلائی جہاز خلا میں زیادہ بلندی پر ہوتے ہیں اور یہ وی آر او کے سامنے زیادہ دیر تک رہیں گے۔

پروفیسر کان نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانوی ماہر فلکیات نے بہت سے سائنسدانوں سے رابط کیا ہے تاکہ وہ ون ویب کو تعاون کرنے سے آمادہ کر سکیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے قریبی تعاون درکار ہے۔

توقع ہے کہ وی آر او کا کیمرا سنہ 2022 میں گوبھی کے بجائے خلا کی تصاویر لینا شروع کر دے گا۔