’بدلتا ہوا ویب دنیا کو ہلا کر رکھ دےگا‘

م برنرز لی
،تصویر کا کیپشنویب کا مستقبل موبائل فون میں ہے:ٹم برنرز لی

ورلڈ وائیڈ ویب کے خالق سر ٹم برنز لی کے مطابق ویب کی دنیا میں اختراع کی رفتار وقت کے ساتھ ساتھ تیز ہو رہی ہے۔

ویب کے خیال کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر ان کا کہنا ہے کہ یہ نئی تبدیلیاں دنیا پر گہرا اثر چھوڑیں گی۔

سوئس تحقیقاتی مرکز ’سرن‘ میں جہاں انہوں نے ویب کا نظریہ پیش کیا تھا، تقریر کرتے ہوئے ٹم برنرز لی نے کہا کہ’ ویب میں ابھی سب کچھ نہیں ہو سکا ہے۔ یہ تو شروعات ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس میں آنے والی نئی تبدیلیاں دنیا کو ہلا کر رکھ دیں گی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موبائل فون مستقبل کے ویب کا ایک اہم جزو ہوں گے کیونکہ’ترقی پذیر ممالک میں یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کی مدد سے زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکتے ہیں‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سر ٹم نے کہا کہ دنیا بھر کے سائنسدان ویب کی تشکیل کے عمل میں شریک ہیں۔

سر ٹم نے مارچ سنہ 1989 میں سرن میں اپنی نوکری کے دوران اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا تھا کہ کیوں نہ ٹیکسٹ لنکس سے مزین ایسا ہائپر ٹیکسٹ ڈیٹا بیس بنایا جائے جس کی مدد سے دنیا بھر کے سائنسدان تیزی سے معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔ یہی وہ خیال تھا جو ورلڈ وائیڈ ویب کی تشکیل کی بنیاد بنا۔ ان کے سپر وائزر نے اس تجویز کو ایک مبہم مگر جوش دلانے والا خیال قرار دیا تھا اور اس سے اگلے ہی برس ٹم برنرز لی نے وہ سافٹ ویئر تشکیل دیا تھا جو صارفین کو انٹرنیٹ پر موجود معلومات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

اپنی تقریر میں ٹم برنرز لی نے خبردار کیا کہ ویب کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ایسے نظام بھی سامنے آ رہے ہیں جو کسی بھی صارف کی ویب عادات سے خود بخود اس کا شخصی خاکہ تشکیل دے لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام ویب صارفین کو اس قسم کے نظاموں سے بچ کر رہنا ہوگا۔ خیال رہے کہ حال ہی میں گوگل نے ایک ایسا نظام متعارف کروایا ہے جو کسی ویب صارف کی آن لائن مصروفیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے اسی قسم کے اشتہارات کے لنک بھیج سکتا ہے۔