’یورپ کا خوبصورت ترین خلائی مشن‘

گوس

یورپ اپنی تاریخ کا اب تک کا سب سے مشکل خلائی مشن شروع کرنے والا ہے۔ اس مشن کے تحت مصنوعی سیارے گوس کے ذریعے زمین پر کشش ثقل ناپی جائے گی۔

سائنسدان گوس سے ملنے والی معلومات کی مدد سے سمندروں کے مد و جزر کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور زمین کے کسی بھی مقام کی بلندی ناپنے کے متفقہ نظام کا تعین کیا جائے گا۔

گوس کو پیر کو شمال مغربی روس سے خلا میں بھیجا گیا۔ اب تک خلا میں بھیجے گئے زیادہ تر مصنوعی سیارے بد نما ڈبوں کیشکل کے تھے۔ یورپی یونین کی خلائی ایجنسی ایسا کی تیارکردہ گوس بالکل مختلف ہے۔

مشن میں شریک جامعہ میونخ کے پروفیسر رینر رومل نے کہا کہ گوس ’گوس اب تک بنائے گئے مصنوعی سیاروں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے‘۔ گوس کی خوبصورتی اس مشکل ماحول سے مطابقت کی ضرورت کے پیش نظر ہے جس میں گوس کام کرے گی۔

یہ تِیر نما مصنوعی سیارہ دو سو ستر کلومیٹر سے کچھ کم بلندی پر پرواز کرے گا جہاں ہوا کسی حد تک موجود ہوتی ہے۔ گوس دیگر خلائی مشنوں کے مقابلے میں کم بلندی پر پرواز کرے گی کیونکہ اس سے زمین کے مختلف حصوں پر کشش ثقل میں پائی جانے والی معمولی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا جا سکے گا۔

گوس مشن کے ایک اور پروگرام مینیجر ڈینیلو موزی نے کہا کہ ’زمین کی کشش ثقل کے بارے میں ہماری معلومات ابھی نامکمل ہے‘۔