برطانوی گلی محلوں کی سیر گوگل پر

برمنگھم
،تصویر کا کیپشنبرمنگھم کا شمار ان پچیس برطانوی شہروں میں ہوتا ہے جن میں یہ سہولت پوری طرح میسر ہے

گوگل نے برطانیہ کے لیے سہولت فراہم کر دی ہےجس کے تحت لوگ مختلف شہروں کی گلیوں محلوں کی تصاویر دیکھ سکیں گے۔ یہ سہولت فی الحال برطانیہ کے پچیس شہروں میں مسیر ہے۔

ہالینڈ میں بھی جمعرات کو اس سہولت کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اس طرح اب نو ممالک میں گوگل کی یہ سہولت موجود ہے۔

گوگل میں برطانیہ کے جن علاقوں کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں ان کی کل لمبائی بائیس ہزار تین سو انہتر میل بنتی ہے۔ گوگل کی یہ سہولت استعمال کرنے والے لوگ مطلوبہ جگہ پر کیمرہ مرکوز کر کے اپنی پسند کی گلی کو دیکھ سکتے ہیں۔ لوگ اس گلی کو تین سو ساٹھ کے زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں اور سڑک کی سطح سے بھی۔

گوگل نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بات کا دھیان رکھا ہے کہ اس پروگرام کے تحت لی گئی تصاویر میں نجی معلومات کے تحفظ کے قانون پر سمجھوتہ نہ ہو بلکہ صرف وہی مناظر دیکھے جا سکیں گے جو سڑک پر کھڑے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔

پروگرام میں ایسی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے جس کی مدد سے لوگوں کے چہرے اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں دھندلی نظر آئیں گی۔

پرائویسی انٹرنیشنل نامی تنظیم کے لیے کام کرنے والے سائمن ڈیویز نے کہا کہ قانون کے تحت کاروباری مقاصد کے لیے بغیر اجازت کے کسی کی تصویر نہیں لی جا سکتی۔

انفارمیشن کمشنر کے دفتر نے اس معاملے میں ابھی تک فیصلہ نہیں دیا۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ نجی معلومات کے تحفظ کے بارے میں قانون میں ابھی ابہام موجود ہے۔

سائمن ڈیویز کا کہنا ہے کہ ’گوگل نے ان علاقوں کے لوگوں سے مشاورت نہیں کی تھی جن کی تصاویر اس پروگرام کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہیں‘۔تاہم وہ اس سہولت کے مکمل طور پر مخالف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کو لوگوں کے تاریخی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے متعارف کروایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ٹیکنالوجی کو صرف اس لیے قبول نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ’کول‘ ہے۔