ہندوستانی جاسوس سیارہ خلا میں

راکٹ
،تصویر کا کیپشنریسیٹ-2 مصنوعی سیارے کو بھارت کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل یا پی ایس ایل وی-سی12 کے ذریعے خلا میں چھوڑا گیا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان نے پیر کی صبح ایک انتہائی جدید جاسوس مصنوعی سیارہ یا سیٹلائٹ خلا میں بھیجا ہے جس سے پاکستان سمیت تمام پڑوسی ملکوں پر نظر رکھی جا سکے گی۔

تین سو کلو گرام وزن کا یہ ریڈار امیجنگ سیارہ اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز نے تیار کیا ہے اور اسے پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق پونے سات بجے جنوبی ہندوستان ميں واقع شری ہری کوٹہ لانچنگ مرکز سے مدار میں بھیجا گیا۔

یہ جاسوس سیارہ دراصل اسرائیل کا ’ٹکسار‘ سیارہ ہے جو خالصتاً فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو تا ہے۔ اس کا نام ریسیٹ -2 رکھا گیا ہے اور اسے خلا میں ایک ہندوستانی راکٹ کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ یہ زمین سے 550 کلو میٹر کی اونچائی پر مدار میں گردش کرے گا۔

اسی ساخت کا ایک اسرائیلی جاسوس سیارہ ہندوستان نے گزشتہ برس جنوری میں اپنے راکٹ سے خلا میں بھیجا تھا۔ اس وقت ملک کی بائیں بازوکی جماعتوں اور ایران سمیت بعض ممالک نے اسرائیل کے لیے جاسوس سیارہ چھوڑنے پر ہندوستان پر نکتہ چینی کی تھی۔

ریسیٹ -2 سیارے کی حساس نوعیت کے پیش نظر خلائی تحقیق کے ادارے ’اسرو‘ نے نہ صرف اس کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے بلکہ ماضی کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے سیارے کی لانچنگ کو براہ راست ٹیلی ویزن پر نشر بھی نہیں کیا گیا۔

اسرو نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ سیارہ ہرطرح کی حالت میں تصویریں لینے کا اہل ہے ۔ اسرو نے اس کی تردید کی ہے کہ یہ ایک جاسوس سیارہ ہے ۔ ادارے `کا کہنا ہے کہ اس سے قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں ڈیٹا اور تصویریں وغیرہ حاصل کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

اطلاعات کے مطابق ریسیٹ سیارہ رات، بارش اور گھنے بادلوں میں بھی بہترین تصویریں لے سکے گا۔ ہندوستان اس سیارے کے ذریعے دن رات پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر پڑوسی ملکوں سے ملنے والی اپنی سرحد اور ان ممالک کے اہم مقامات پر نظر رکھ سکے گا۔ اس کے ذریعے سرحد پر دراندازی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

کرگل کی لڑائی کے بعد اسرائیل، ہندوستان کا ایک اہم دفا‏عی اتحادی بن گیا ہے۔ وہ پہلے ہی فرانس کی جگہ ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی سپلائر بن چکا ہے اور بہت جلد وہ روس کو ہٹا کر پہلا مقام حاصل کرنے والا ہے۔

اسرائیل دفاعی سازو سامان ہی نہیں فروخت کر رہا ہے بلکہ وہ دراندازی اور دہشت گردی پرقابو پانے اور سرحدوں کی جدید طرز پر نگرانی میں بھی ہندوستان کی مدد کر رہا ہے۔

ریسیٹ -2 جاسوس سیارہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان اسی دفاعی اشتراک و تعاون کا حصہ ہے۔ ہندوستان، اسرائیل کے اشتراک سے اسی نوعیت کا ایک بڑا جاسوس سیارہ تیار کر رہا ہے لیکن وہ اپنے مقررہ وقت سے پیچھے چل رہا ہے اور اندازہ ہے کہ اب وہ اس سال کے اواخر میں لانچ کیا جائے گا۔