گوگل سٹریٹ ویو کوہری جھنڈی

برطانیہ کے کمشنر برائے اطلاعات کا کہنا ہے کہ انہیں گوگل سٹریٹ ویو کے پرائیویسی سے متعلق خدشات ہیں لیکن اسے روکا نہیں جانا چاہیے۔
گوگل پر ملنے والے نقشے میں گلیوں اور مختلف مقام کی تصاویر شائع ہونے پر لوگوں نے شکایت کی تھی کہ اس سے ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
پرائیویسی واچ ڈاگ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پرائیویسی کے نسبتاً چھوٹے سے خطرے کے مقابلے اس تمام سروس کو ختم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
برطانیہ میں ایک گاؤں نےگوگل کو گاؤں کی گلیوں کی تصاویر لینے سے روک دیا تھا۔ملٹن کینز کے نزدیک گاؤں براؤٹن کے لوگوں نے گوگل سٹریٹ ویو کی کار کوگاؤں میں اس وقت داخل ہونے سے روک دیا تھا جب وہ تصاویر لینے کے لیے وہاں داخل ہو رہی تھی۔
گاؤں والوں نے احتجاج کیا اور پولیس طلب کی گئی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ گوگل ان کی پرائیویسی میں مداخلت کر رہا ہے اور ’جرائم کے اضافے‘ میں مدد کر رہا ہے۔گاؤں کے باشندوں کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پہلے ان سے مشورہ کیا جاناچاہیے تھا۔
گوگل نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ اس کی سروس برطانوی قوانین کا خیال کرتی ہے اور یہ تصاویر عام مقامات سے لی گئی ہیں۔پرائیویسی انٹر نیشنل نے کمشنر برائے اطلاعات سے شکایت کی ہے۔ اس کے علاوہ 74 دوسری شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ اس سروس کو ختم کیا جائے کیونکہ ان تصاویر میں کچھ لوگوں کی شکل صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں چہرے کو دھندلا کرنے کا آپشن موجود ہے لیکن گوگل کا کہنا ہے کہ کسی عام شہری کی درخواست پر کسی خاص تصویر کو ہٹایا جا سکتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی مئی 2007 میں شکایتوں کے درمیان ہی امریکہ میں شروع کی گئی تھی۔
اس سروس کے شروع ہونے کے بعد ہی سٹریٹ ویو سے کئی تصاویر فوری طور پر ہٹا لی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوگل کے ترجمان نے کمشنر برائے اطلاعات کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں محسوس ہوا کہ کچھ لوگ اپنےگھر کی تصاویر سٹریٹ ویو میں شامل نہیں کرنا چاہتے اس لیے ہم نے اس تصویر کو ہٹانے کا آسان طریقہ بھی دیا ہے۔
انفارمیشن کمیشن کے ڈیٹا پروٹیکشن مینیجر ڈیوڈ ایوان کا کہنا ہے کہ ’ڈجیٹل گھڑی کی سوئیوں کو واپس گھمانا لوگوں کے مفاد میں نہیں ہوگا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’فیس بُک اور بلاگ کی دنیا میں سٹریٹ ویو لوگوں کی پرائیویسی میں نسبتاً کم مداخلت ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ گوگل سٹریٹ ویو میں کاروں کے نمبر اور لوگوں کے چہروں کو دھندلا کرتا رہے گا اور کمیشن اس سروس پر پوری نظر رکھےگا۔







