ویل کانفرنس ناکام ہوگئی

ویل مچھلیوں کے شکار کے خلاف اور اس کے حق میں سمجھے جانے والے ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں اور اس سال اس سلسلے میں کسی معاہدے کا امکان نظر نہیں آتا۔
یہ ممالک ایک سال سے مذاکرات کر رہے تھے تاکہ اس سال ہونے والے انٹر نیشنل ویلنگ کمیشن کے اجلاس سے پہلے کوئی معاہدہ طے ہو جائے لیکن بی بی سی نیوز کے سامنے جو مسودہ آیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا ذمہ دار جاپان ہے جو ریسرچ کے نام پرجاری ویل کے شکار میں کسی بڑی کٹوتی کے لیے رضا مند نہیں ہوا۔
اس سے پہلے ہونے والی میٹنگ میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جاپان اگلے پانچ سال کے لیے ویل کے اپنے سالانہ شکار میں کمی کے لیے حامی بھر دے گا لیکن جاپان نے بہت ہی معمولی کٹوتی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ساحلی برادریوں کے لیے چھوٹے سے کوٹے کا مطالبہ بھی کر ڈالا جاپان کا کہنا ہے کہ ویل کا شکار ان کی ثقافت اور روایت کا اہم حصہ ہے۔جاپان کے اش غیر لچکدار رویے کے بعد کسی معاہدے کے امکانات معدوم ہو گئے۔
ویل کے کمرشل شکار کی قانونی حیثیت کچھ اس طرح ہے: کوئی بھی ملک ویل کمیشن کے موریٹوریم پر اعتراض کر کے خود کو اس سے مستثنٰی اعلان کر سکتا ہے جس کی مثال ناروے ہے، دوسرے کوئی ملک یکطرفہ طور پر’سائنٹفک پرمٹ‘ لے سکتا ہے جس کی مثال جاپان ہے اور تیسرایہ کہ کمیشن خوراک کے زمرے میں کچھ مقامی گروپوں کو خود پرمٹ دے سکتا ہے جن کی مثال الاسکا ہے۔
ویلنگ کمیشن نے اس سلسلے میں ایک ایسا پیکچ تیار کرنے کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا جو تمام ممالک کے لیے قابلِ قبول ہو۔
ویل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپ بھی اس بارے میں الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔کچھ ایسے کسی بھی معاہدے کے خلاف ہیں جس کے تحت کمرشل مقاصد کے لیے ویل کے شکار کی اجازت ہو۔ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اگر ایسا ہوا تو کچھ ممالک ساحلی علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر ویل کے شکار کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
دوسرے گروپ اس عمل کے حق میں ہیں ان کا خیال ہے کہ اس سے کم از کم مجموعی طور پر شکار میں کمی آئے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ورکنگ گروپ کی رپورٹ کے مطابق یہ عمل ابھی جاری رہے گا۔






















