’صارفین پر نظر رکھنے کی اجازت نہیں‘

انٹرنیٹ
،تصویر کا کیپشندنیا کی تقریباً تمام بڑی ویب سائٹس کو لکھا ہے کہ وہ فوم کے نظام کا استعمال کریں:اوپن رائٹس گروپ

انٹرنیٹ کے ذریعے کتابیں و دیگر اشیاء فروخت کرنے والے ادارے ایمزن نے کہا ہے کہ وہ اپنے صارفین پر نظر رکھنے والے ایک نئے نظام ’فورم‘ کو اپنی ویب سائٹ کے صفحات کا جائزہ لینے اجازت نہیں دیں گے۔

فورم ایک ایسا نظام ہے جو کہ ویب سائٹس استعمال کرنے والے صارفین کی عادات کو جانچنے کے بعد ان کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اشتہارات بھیجتا ہے۔

فورم نظام ایمزن کی ویب سائٹ کا جائزہ لینے کے بعد ایک ایسا ریکارڈ ترتیب دینا چاہتا ہے جسے کے ذریعے معلوم کیا جا سکےگا کہ ویب سائٹ استعمال کرنے والے صارفین کو کس طرح کے اشتہارات کی ترغیب دی جا سکے۔

واضح رہے کہ انٹرنیٹ کے صارفین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا یہ عمل پہلے سے ہی متنازعہ ہو چکا ہے کیونکہ اس پر سیاسی بحت چل رہی ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی رضامندی کیسے حاصل کی جائے۔جبکہ اس نظام کے دائرے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تمام صارفین آئیں گے۔

فورم نظام کا اس وقت بی ٹی ( برٹش ٹیلی کام ) کے ذریعے ابتدائی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔جائزے کے بعد اس نظام کو ویب وائز کے نام سے متعارف کروایا جائے گا۔

گذشتہ ماہ اوپن رائٹس گروپ نے دنیا کی تقریباً تمام بڑی ویب سائٹس کو کہا تھا کہ وہ فورم کے نظام کا استعمال کریں ۔لیکن ایمزن برطانیہ کے ایک اہلکار کے بیان کے مطابق ویب وائز کے ذریعے ایک درخواست کی گئی ہے کہ ہم اپنی ویب سائٹ کے تمام ڈومین کے لیے اس نظام کو اپنا لیں ۔ تاہم انہوں نے فوم نظام کو اپنانے سے انکار کے بارے میں مزید کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔

گذشتہ ماہ اوپن رائٹس گروپ نے مائیکرو سوفٹ ، یاہو اور گوگل جیسی مختلف ویب سائٹس کی جعل سازی روکنے والے اعلی افسران سے رابط کیا تھا کہ وہ فورم نظام کو اپنائیں۔ ایمزن پہلی کمپنی ہے جس نے فورم کو استعمال کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ اوپن رائٹس گروپ کے ڈائریکٹر جم کللوک کا کہنا ہےکہ مستقبل قریب میں متعدد کمپنیاں فورم کو استعمال کرنے سے انکار کر سکتی ہیں ۔