سائبر حملے سے تحفظ کا منصوبہ

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی کمپیوٹر انفراسٹرکچر کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔صدر اوباما نے کہا کہ وہ خود سائبر سکیورٹی کوارڈینیٹر کا انتخاب جلد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کمپیوٹر نیٹ ورک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اس لیے اسے نشانہ بنانے کی سازشیں بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا امریکی سٹاک ایکسچینج اور ہوائی ٹریفک کنٹرول کے لیے بہت زیادہ انحصار کمپیوٹروں پر ہوتا ہے اس لیے اسے نشانہ بنانے کی سازشیں بھی تیار کی جاسکتی ہیں۔
صدر اوباما نے کہا کہ اقتصادی بحران پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جا سکتا جب تک قوم کی آن لائن کارروائیوں کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہ دنیا میں امریکی غلبے کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی میں اس کی برتری ہے لیکن امریکی فوجی نیٹ ورک ہمیشہ سائبر حملوں کی زد میں رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کمپوٹر انفراسٹریکچر کے تحفظ کو قومی سلامتی میں اولیت حاصل ہے۔
صد اوباما نے اگرچہ اپنی تقریر میں یہ بات نہیں کہی لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سائبر جنگ لڑنے کے لیے اوباما انتظامیہ ایک نئی فوجی کمان بھی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
اس سے پہلے امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے، نیشنل سکیورٹی ایجنسی، کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل کِیتھ الگزینڈر نے کہا تھا کہ مستقبل میں امریکہ کو ڈیجیٹل جنگ کی ماہر فوج کی ضرورت ہوگی۔
لیفٹنٹ جنرل کِیتھ الگزینڈر پینٹاگن کی نئی سائبر کمانڈ کے سربراہ ہیں۔
جنرل کِیتھ الگزینڈر نے کہا تھا کہ جس طرح سے سائبر سپیس کی ترقی اور ارتقا ہو رہا ہے، اس کی اہمیت اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکی قوم کے لیے ٹیکنالوجی میں اپنی برتری برقرار رکھنا ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا تھا کہ سائیبر سپیس میں نقل و حرکت کی آزادی امریکی مفادات کے لیے بالکل اسی طرح سے اہم ہے جس طرح انیسویں صدی میں سمندروں اور بیسویں صدی میں فضاؤں تک رسائی اہم تھی۔





















