گوگل مائیکروسافٹ کے مقابلے پر اتر آیا

مائیکروسافٹ کے ونڈوز سسٹم کے مقابلے میں گوگل بھی پرسنل کمپیوٹرز کے لیے آپریٹنگ سسٹم بنا رہا ہے۔
گوگل کروم ’او ایس‘ ابتدائی طور پر چھوٹے کم قیمت والی نیٹ بکس کے لیے بنایا جائے گا اور بعد میں اس کو پرنسل کمپیوٹرز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
گوگل کا کہنا ہے کہ نیٹ بکس جن میں کروم او ایس سسٹم موجود ہوگا سن دو ہزار دس کے وسط تک بازاروں میں دستیاب کر دی جائیں گی۔
گوگل نے ایک ادارتی بلاگ میں کہا کہ اس نئے نظام کی خصوصیات اس کی رفتار، سادگی اور سیکیورٹی ہوں گی۔
گوگل کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب مائیکروسافٹ ونڈوز کا تازہ ترین ورژن ونڈوز سیون بازار میں لانے والا ہے۔
گوگل کے نائب صدر سندر پچائی اور انجینیئرنگ ڈائریکٹر لینس اپسن نے اس بلاگ میں کہا کہ وہ ایک ایسا نظام بنا رہے ہیں جو تیز رفتار اور کم وزن ہوگا اور آپ کو چند ہی لمحوں میں ویب تک پہنچا دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جو آپریٹنگ سسٹمز زیر استعمال ہیں وہ اس وقت بنائے گئے تھے جب ویب نہیں تھا اور یہ او ایس ’آپریٹنگ سسٹمز‘ کو جیسا ہونا چاہئیے ویسا بنانے کی ہماری کوشش ہے۔
گوگل کا موبائل فون کے لیے پہلے ہی آپریٹنگ سسٹم موجود ہے جو کہ نیٹ بکس پر بھی چل سکتا ہے۔ گوگل کروم او ایس صرف لیپ ٹاپس کے لیے نہیں ہوگا بلکہ ان لوگوں کے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے لیے بھی ہوگا جو ویب پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوگل کی طرف سے یہ اعلان ایک زبردست تبدیلی ثابت ہوگا خاص طور پر مائیکروسافٹ کے لیے جس کے پاس آپریٹنگ سسٹم کی عالمی مارکیٹ کا نوے فیصد حصہ ہے۔
گزشتہ سال گوگل نے کروم براؤزر کے اجرا کے موقع پر کہا تھا کہ یہ ’ان لوگوں کے لیے ہے جو ویب پر ہی زندہ رہتے ہیں، چاہے وہ معلومات کی سرچ ہو، ای میل چیک کرنا ہو، تازہ ترین خبروں سے آشنا رہنا یا پھر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطے میں رہنا ہو۔۔۔‘
مبصرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا تازہ ترین اعلان ویب کو روز مرہ کی زندگی کی بنیاد بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔







