مریخ پر آتش گیرگیس کا معمہ

فرانسیسی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سرخی مائل سیارے مریخ سے ملنے والی شہادتوں کے مطابق وہاں پر آتش گیر گیس میتھین بہت جلد پیدا اور ختم ہو جاتی ہے۔
فرانسیی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ پر گیس کا موجود غیر ہموار ہے اور گیس کی مقدار موسموں کے ساتھ بڑھتی اور گھٹتی ہے۔
سائسندان ان شواہد سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا مریخ پر آتش گیر گیس میتھین کی موجودگی وہاں پر زندگی کے آثار یا آتش فشانی گولے کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
فرانسیسی سائنسدانوں نے زمین پر میتھین گیس کی موجودگی سے متعلق معلومات کی بنیاد پر ایک کمپیوٹر نقل (سمولیشن) تیار کی ہے جو مریخ پر میتھین سے متعلق شواہد کو سمجھنےمیں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
فرانسیسی سائنسدان ڈاکٹر لیفرر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مریخ کا موسم ابتک ایک معمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے حرکیات اور طبعیات سائنس کی مدد سے ایک نمونا تیار کیا ہے جس کے نتیجے کے مطابق مریخ پر گیس کی موجودگی کے آثار سے متعلق کچھ معلومات ملی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میتھین سے متعلق جو معلومات موجود ہیں وہ مریخ پر آتش گیر گیس کی موجودگی سے متعلق شواہد سے مماثلت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ مریخ پر کچھ ایسا ہو رہا ہے جو میتھین گیس کی زندگی کو بہت مختصر بنا دیتا ہے۔
فرانسیسی سائنسدان نے کہا کہ اگر ان کے اندازے ٹھیک ہیں تو انسان مریخ سے متعلق بہت اہم معلومات کا پتہ نہیں لگا پا رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















