مریخ کے سفر کے لیے کیپسول میں بند

مریخ کے تجربے کے رضاکار
،تصویر کا کیپشنمصنوعی کیپسول میں کھڑکیاں بھی نہیں تھیں

انسان کو مریخ پر اتارنے کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والے ایک تجربے میں چھ یورپی رضاکار ایک بند مصنوعی خلائی کیپسول میں تین ماہ گزارنے کے بعد باہر آ گئے ہیں۔

تجربے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ خلابازوں کو مریخ کے ممکنہ طویل سفر کے دوران کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اس سے کس طرح نمٹیں گے۔ تجربے میں حصہ لینے والے چار رضاکاروں کا روس سے تعلق تھا اور دیگر دو میں سے ایک کا فرانس سے اور ایک کا جرمنی سے۔

تجربے کا مقصد رضاکاروں کو اس طرح تنہا محسوس کروانا تھا جیسا وہ مریخ کے سفر کے دوران کریں گے۔ انہیں انتہائی تنگ جگہ میں رکھا گیا جہاں ریڈیو سے رابطہ بھی بیس منٹ کی تاخیر سے ہوتا تھا۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے رضاکار نے اعتراف کیا کہ وہ مکمل طور پر وقت کا احساس کھو بیٹھے تھے۔

تاہم یہ بات دھیان میں رکھنی پڑے گی کہ مریخ پر جانے کے لیے ایک سو پانچ دنوں سے بہت زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے رضاکاروں کا ایک اور گروپ روس میں اسی مصنوعی خلائی کیپسول میں پانچ سو بیس دنوں کے لیے بند کر دیے جائے گا۔