سیاروں کے تصادم کے نئے ثبوت

امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایک دوربین نے ایک کم عمر ستارے کے گرد چکر لگانے والے دو سیاروں کے تصادم کے ثبوت تلاش کیے ہیں۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ تصادم چار ارب سال قبل مریخ کے حجم والی کسی چیز اور زمین کے تصادم جیسا ہے۔ خیال رہے کہ اسی تصادم کے نتیجے میں زمین کا چاند وجود میں آیا تھا۔
حالیہ تصادم ممکنہ طور پرگزشتہ چند ہزار برس کے دوران پیش آیا اور اس کی تفصیل آسٹروفیزیکل جنرل میں شائع ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق اس حالیہ تصادم میں ٹکرانے والے اجسام میں سے ایک زمین کے چاند اور ایک کم از کم عطارد جتنا بڑا تھا۔ تصادم کے نتیجے میں چھوٹی جسامت والی چیز تباہ ہوگئی اور خلاء میں بڑے پیمانے پر چٹانیں اور لاوا بکھرا۔
ناسا کی سپٹزر خلائی دوربین نے تحلیل ہو جانے والی چٹانوں اور سخت لاوے کے نشانات تلاش کیے ہیں۔
.امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف کیری لیز کا کہنا ہے کہ ’ یہ تصادم بہت بڑا اور انتہائی تیز رفتاری سے ہوا ہوگا کہ اس نے چٹانوں کو پگھلا دیا اور تحلیل کر دیا‘۔ اندازہ ہے کہ تصادم کے وقت دونوں اجسام کم از کم دس کلومیٹر فی سیکنڈ یا بائیس ہزار چار سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہے ہوں گے۔
کیری لیز کے مطابق ’یہ ایک نادر اور کم عرصے تک رہنے والا واقعہ ہے اور زمین جیسے سیاروں اور چاند کی تشکیل کے حوالے سے نہایت اہم بھی ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اس کے ظہور پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی اس کی باقیات کا مشاہدہ کرنے کا موقع مل گیا ہے‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی خلائی دوربین ہبل کے کیمرے نے سیارہ مشتری کی سطح پر ماحولیاتی ٹوٹ پھوٹ کا پتہ لگایا تھا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹوٹ پھوٹ کسی شہابیہ کے سیارے کی سطح سے ٹکرانے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















