چین: متنازعہ سافٹ ویئر میں نرمی

چین انٹرنیٹ
،تصویر کا کیپشندنیا میں کسی ملک میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ کے صارفین چین میں پائے جاتے ہیں

چین میں حکومت نے تمام شہریوں کے کمپیوٹروں پر متنازعہ ویب فلٹر پروگرام لگانے کےمنصوبے میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔

جون میں حکومتی اعلان کے مطابق رواں سال جولائی سے چین میں تمام کمپیوٹروں پر’گرین ڈیم یوتھ ایسکارٹ‘ نامی سافٹ ویئر لگنا لازمی تھا۔تاہم اس پر چین اور بیرون ملک سے یہ اعتراض ہوا کہ یہ پرو گرام فحش سائٹس کے علاو اور بہت سی ویب سائٹس پر رسائی بھی روک دیتا ہے۔

لیکن اب حکومت نے کہا کہ شہری اپنی مرضی سے ویب فلٹر پروگرام کا استعمال کر سکتے ہیں۔لیکن سکولوں، انٹر نیٹ کیفے اور دیگر عوامی مقامات پر موجود کمپیوٹروں میں یہ سافٹ ویئر لگانا لازمی ہوگا۔

چین کےانڈسٹریل اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر کے مطابق اس ویب فلٹر پروگرام کا مقصد بچوں کو غیر مناسب یا فحش ویب سائٹس پر جانے سے روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کیسی قسم کا مسئلہ کھڑا کرنا یا چین کے انٹرنیٹ نظام پر تنقید کرنا غیر ضروری اور حقیقت پر مبنی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ویب فلٹر پروگرام لگانے سے پہلے عوام کی رائے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سافٹ ویئر کو پہلے سے بہتر بھی کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف مشیگن کی ایک تحقیق کے مطابق اس کے یو آر ایل، ٹیسکسٹ اور امیج فلٹرنگ سسٹم میں خامیاں ہیں اور سب اس سافٹ ویئر میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس سے کمپیوٹر کو ہائی جیک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس منصوبے کے خلاف ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی تھی۔اس آن لائن مہم میں ایک ’مینگا‘ نما کارٹون کا کرادار بھی استعمال کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ دنیا میں کسی ملک میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ کے صارفین چین میں پائے جاتے ہیں۔