موسم کی خرابی، شٹل کی روانگی ملتوی

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خراب موسم کی وجہ سے خلائی شٹل ڈسکوری کو چوبیس گھنٹے تاخیر سے خلاء میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق خلائی شٹل نے فلوریڈا کے کینیڈی خلائی مرکز سے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق منگل کی صبح پانچ بج کر چھتیس منٹ پر پرواز کرنا تھا تاہم حکام نے موسم کی خرابی کی وجہ سے شٹل کی روانگی ملتوی کر دی۔
تیرہ دن کے اس سفر میں ڈسکوری سائنسی سامان کے علاوہ ایک فریزیر اور ایک اوون بھی بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ شٹل جو نیا فریزر لے کے جا رہی ہے اور میں حیاتیاتی نمونے رکھے جائیں گے جبکہ اوون کو بیکنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
لیبارٹری کا یہ ساز و سامان یورپ میں تیار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی طرف خلائی شٹل کا تیسواں سفر جس میں بھیجا جانے والا سامان اور آلات سٹیشن کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوں گے۔ یورپی سپیس ایجنسی کے خلاباز کرسٹر فگلیسینگ جن کا تعلق سویڈن سے ہے، خلائی شٹل پر سوار ہوں گے اور خلا میں تین بار چہل قدمی کریں گے۔
شٹل جس فریزر کو خلا میں لے کر جا رہی ہے، آئندہ سے ہر طرح کے نمونے جن میں خلابازوں کے خون کے نمونے میں بھی شامل ہوں گے، اس فریزر میں رکھے جائیں گے۔ طویل خلائی سفر کے دوران انسانی جسم پر ہونے والے اثرات کو سمجھنے کے لیے عموماً خلانوردوں کے خون کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔ خلائی سٹیشن کو بھیجے جانے والے اوون کا درجۂ حرارت چود سو سنٹی گریڈ تک حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ مختلف نمونوں کو پگھلا سکتا ہے۔


















