کاربن اخراج، کنٹرول کے لیے’مصنوعی درخت‘

کاربن اخراج
،تصویر کا کیپشن’دنیا کے پاس کاربن اخراج میں کمی کے لیے چند دہائیاں ہی ہیں‘

انجینئروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دس سے بیس برس میں دنیا میں کاربن اخراج پر قابو پانے کے لیے ایک لاکھ ’مصنوعی درختوں‘ کا جنگل تیار کیا جا سکتا ہے۔

مصنوعی درختوں کا خیال آنے والے زمانے میں نباتاتی انجینئرز کے ان خیالات میں سے ایک ہے جنہیں قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔

انسٹیٹیوشن آف مکینیکل انجینئرز کی تیارہ کردہ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ جیو انجینئرنگ کے بغیر خطرناک ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنا ناممکن ہوگا۔

اس رپورٹ میں عالمی معیشت کو کاربن سے پاک کرنے کا سو سالہ نقشۂ راہ بھی شامل ہے۔

تاہم رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ٹم فوکس کے مطابق جیو انجینئرنگ اپنے بل بوتے پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اسے کاربن کے اخراج میں کمی کی دیگر کوششوں کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

بہت سے ماحولیاتی سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ دنیا کے پاس کاربن اخراج میں کمی کے لیے چند دہائیاں ہی ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو فضاء میں اتنا کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہو جائے گی کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔.

اس رپورٹ کے مطابق اگرچہ جیو انجینئرنگ کو کاربن اخراج میں کمی کے لیے قلیل المدتی منصوبے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم ماحول کو بچانے کے لیے بالاخر کاربن اخراج پر قابو پانا ہی ہوگا۔

انجینئرز کے مطابق جیو انجینئرنگ کے دو اقسام ہیں پہلے طریقے میں سورج کی روشنی کا انعکاس کیا جاتا ہے لیکن یہ طریقہ صرف مسئلہ کی پردہ پوشی کرتا ہے جبکہ جیو انجینئرنگ کے دوسرے طریقے میں ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو الگ کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

اس ٹیم نے جیو انجینئرنگ کے سینکڑوں خیالات کا جائزہ لینے کے بعد حالیہ ٹیکنالوجی کے تناظر میں صرف تین کو قابلِ عمل قرار دیا۔ ان تینوں کے انتخاب کی ایک اہم وجہ ان کا کم کاربن اخراج والی ٹیکنالوجی ہونا تھا۔

ڈاکٹر فوکس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’ مصنوعی درختوں کی تیاری اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور ان کا ڈیزائن استعمال اور اجزائے ترکیبی کے حوالے سے بہت جدید ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ مختصر عرصے میں ان درختوں کو تجارتی بنیادوں پر تیار کیا جا سکے گا‘۔

یہ درخت ایک فلٹر کی مدد سے فضاء سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کریں گے۔ اس کے بعد یہ گیس فلٹر سے نکال کر محفوظ کر لی جائے گی۔ فلٹر سے نکالی جانے والی اس گیس کو بحیرۂ شمالی میں واقع تیل کے خالی کنوؤں میں محفوظ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر فوکس کا کہنا ہے کہ تیار ہونے والے مصنوعی درخت کا حجم ایک شپنگ کنٹینر کے برابر ہے تاہم وہ اس کے برابر حجم والےقدرت درخت کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرے گا۔