مائیکرو سافٹ سرچ اب وژیوئل ہوگی

بنگ ڈاٹ کام سرچ انجن
،تصویر کا کیپشنبنگ ڈاٹ کام سرچ انجن پر تلاش کے نتائج تصویروں میں ملیں گے

سافٹ ویئرز کی تیاری کے لیے مشہور کمپنی مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ مارکیٹ میں مقبول سرچ انجن گوگل سے مزید دوری اختیار کر تے ہوئے اپنی ویب سائٹ بنگ ڈاٹ کام کو وژیوئل سرچ کے طور پر متعارف کروایا ہے۔

تقریباً نوے روز پرانی اس ویب سائٹ پر لوگ الفاظ کے بجائے تصویروں کے ذریعے ہی سرچ کر سکیں گے۔

وژیوئل یعنی بصری طور پر سرچ کے لیے یہ سائٹ ٹریول، صحت، تفریحی اشیاء اور شاپنگ کے لیے مخصوص ہے۔

مائیکروسافٹ میں آن لائن سروس کے نائب صدر یوسف مہدی کا کہنا ہے کہ یہ پہل اس نظریہ سے کی گئی ہے کہ ’آنے والے دنوں میں سرچ کی دنیا تبدیل ہونے والی ہے۔ سرچ کے لیے لوگ گرافک کا زیادہ استعمال کریں گے اور لوگ اس طریقہ سے جڑیں گے‘۔

مائیکرو سافٹ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ بعض چیزوں کی سرچ ’وژیوئل سرچ‘ کے ذریعے روایتی سرچ سے زیادہ تیز ہوگی جسےگوگل یا دوسرے سرچ انجن پیش کرتے ہیں۔ کمپنی نے اپنے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق وژیوئل سرچ کے ذریعے صارفین ٹیکسٹ کے بہ نسبت بیس فیصد تیز سرچ کر سکتے ہیں۔

مائیکرو سافٹ کے مطابق ’یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے آن لائن پر موجود ایک طویل کیٹلاگ میں سے سرچ کیا جائے‘۔

مائیکروسافٹ نے سان فرانسسکو میں’ٹیک کرنچ 50‘ میں جاری کانفرنس کے دوران اس ویب سائٹ کا ٹیسٹ ورژن پیش کیا ہے۔ وہاں پر مسٹر مہدی نے سرمایہ کاروں اور صحافیوں کو بتایا کہ بنگ ڈاٹ کام کو بنانے میں ساڑھے تین برس لگے ہیں۔

استعمال کرنے کے لیے جب سرچ مواد لکھا جائےگا تو پہلے صفحہ پر ایک لنک ظاہر ہوگا جس پر لکھا ہوگا کہ بنگ ڈاٹ کام نے اس سلسلے کے بصری نتائج تلاش کیے ہیں۔ اس پر کلک کرنے سے اس بارے میں موجود تمام تصویریں کھلیں گی۔

ابتداء میں کم تعداد میں ہی متعلقہ تصویریں ظاہر ہوں گی اور ان کا زیادہ تر تعلق تفریح، مشہور شخصیات، شاپنگ اور کھیل سے ہوگا۔

ٹیک کرنچ کانفرنس نئی کمپنیوں کے لیے ہے جس میں ان کے آئیڈیاز کو ماہرین کے ایک پینل ذریعے آزمایا جاتا ہے۔ لیکن مائیکروسافٹ نے اسی میں اپنے اس نئے پروڈکٹ کو پیش کیا ہے۔

ایک سرمایہ کار رون کانوے جنہوں نے ماضی میں گوگل جیسی کمپنی میں سرمایہ کاری کی تھی کا کہنا تھا کہ ’سب سے بڑی جیت صارفین کی ہے کیونکہ گوگل اور مائیکروسافٹ کے درمیان مقابلے سے نئی نئی چیزوں کی ایجاد ہوتی ے اور اس کا فائدہ صارفین کو پہنچتا ہے‘۔