میموگرافی نہ کرانے سے اموات میں اضافہ

امریکی تحقیق کے مطابق میموگرافی نہ کرانے والی بریسٹ کینسر کی مریض خواتین کے زندہ بچنے کے امکانات ان مریض خواتین کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں جو باقاعدگی سے اپنا معائنہ کرواتے ہیں۔
امریکی ریاست میساچیوسٹس میں چار سو اکسٹھ خواتین پر کی گئی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چھاتی کے سرطان سے مرنے والی خواتین میں پچھتر فی صد نے کبھی بھی میموگرافی یا بریسٹ سکریننگ نہیں کرائی تھی۔
میموگرام چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے مخصوص ایک ایسا ایکسرے ہوتا ہے جو کہ سینے میں پیدا ہونے والی گلٹیوں کے بڑے ہونے سے پہلے ہی اس کی تشخیص کر لیتا ہے اور یوں اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
امریکن سوسائٹی آف کلینکل اونکالوجی نے اس سروے کے بعدایسی سات ہزار خواتین پر بھی تحقیق کی جن میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کی جس سے پتہ چلا کہ کبھی بریسٹ سکریننگ نہ کرانے والی خواتین میں مرنے کی شرح 56 فیصد تھی جبکہ معائنہ کرانے والی خواتین میں یہ شرح صرف پانچ فیصد تھی۔
کیمبرج ہاسپٹل آف بریسٹ کینسر اور ہاورڈ میڈیکل سکول کے ڈاکٹر بلیک کیڈی کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت سے بچنے کے لیے مؤثر ترین طریقہ باقاعدہ سکریننگ ہے۔
ڈاکٹر کیڈی نے مزید کہا کہ میمو گرافی کرانے والی خواتین کی شرح اموات 7۔4 جبکہ نہ کرانے والی خواتین کی شرح 56 فی صد ہوتی ہے۔ ان میں سے تقریبًا پچھتر فی صد خواتین نےباقاعدہ میموگرافی نہیں کرائی تھی۔ ڈاکٹر کیڈی کا کہناتھا کہ ’یہ بات واضح نہیں کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔تاہم یہ ممکن ہے کہ عام طور پر ان خواتین علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی گئی۔‘
’لیکن ممکنہ طور پر ان خواتین کا تعلق ایسے طبقے سے ہو سکتا ہے کہ جو کہ یا تو غریب ہوں اور یا انگریزی نہ سمجھتے ہوں‘۔ خیال رہے کہ بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریبا چار لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔


















