’انسانی باقیات سے آدم خوری کے شواہد‘

ماہرین کو ملنے والی انسانی باقیات میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنماہرین کو ملنے والی انسانی باقیات میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں

آثار قدیمہ کے ماہرین کو جنوب مغربی جرمنی میں دریافت ہونے والی سات ہزار سال قدیم انسانی باقیات سے آدم خوری کے شواہد ملے ہیں۔

ماہرین کی یہ رپورٹ آثار قدیمہ کے جرنل اینٹیکیوٹی رپورٹس میں جاری ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کی دریافت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یورپ میں پتھر کے دور کے آغاز میں آدم خور موجود تھے۔

جرمنی کے ایک گاؤں ہرایکسیم سے دریافت ہونے والی پانچ سو انسانی کی باقیات کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ آدم خوری کا نشانہ بنے ہوں۔ماہرین کے مطابق انسانی جسموں کو جان بوجھ کر کاٹا گیا تھا جبکہ ان باقیات میں بچے بھی شامل تھے۔

ماہرین کے ٹیم کے سربراہ برؤنو بولیسٹن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسانی باقیات سے حاصل ہونے والے شواہد کے مطابق ہڈیوں کو جان بوجھ کر توڑا اور کاٹا گیا ہے جو آدم خوری کی نشاندہی کرتے ہیں۔

’جانوروں کی ہڈیوں سے حاصل ہونے والے نمونے کے مطابق انھیں روسٹ( بھونا) کیا گیا تھا جب کہ انھیں انسانی ہڈیوں سے بھی بلکل ایسے ہی نمونے حاصل ہوئے ہیں۔‘ لیکن ڈاکٹر برؤنو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس بات کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے کہ انسانی ہڈیوں کو جان بوجھ کر روسٹ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب کچھ ماہرین نے آدم خوری کے مفروضے کو رد کرتے ہوئے رائے دی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت انسانی جسم سے گوشت الگ کرنا دفنانے کی ایک رسم ہو۔

اس جگہ کی پہلے سنہ انیس سو چھیانوے میں کھدائی کی گئی اور بعد میں سنہ دو ہزار پانچ اور آٹھ میں مزید باقیات دریافت کی گئیں۔