شہاب ثاقب میں معلومات کا ذخیرہ

شہاب ثاقب

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چالیس سال پہلے زمین سے ٹکرانے والے شہاب ثاقب کے ایک ٹکڑے میں کاربن کے لاکھوں ذرات پائے گئے ہیں۔

یہ ذرات زندگی کی موجودگی کا ثبوت تو نہیں لیکن ایسے ذرات سے زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ضرور بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ذرات نظام شمسی کے ماضی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ چالیس سال پہلے گرنے والے شہاب ثاقب کے ٹکڑے ’مرکِیسن‘ کی عمر سورج سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

’مرکِیسن‘ پر تحقیق کے نتائج نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی کارروائی میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کرنے والے ایک سائنسدان فیلیپ شمٹ کوپلن نے کہا کہ سامنے آنے والے حقائق انتہائی دلچسپ ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شہاب ثاقب ایک طرح کا فوسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو سمجھنے کا مطالب ہے کہ آپ ماضی کو سمجھ رہے ہیں۔