سیارے زہرہ پر ماضی میں پانی کے آثار

سیارہ زہرہ

یورپ کی بھیجی گئی ایک خلائی گاڑی سے ملنے والی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ زہرہ کی سطح پر کبھی بڑی مقدار میں پانی موجود تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زہرہ کی بالائی پرت میں تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہی ہیں۔

زہرہ ایکسپریس نامی خلائی گاڑی نے ایسے نقشے بنائے ہیں جن میں زہرہ کی سطح پر چٹانوں میں مختلف درجہ حرارت دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے خلائی گاڑی سے حاصل ہونے والی معلومات سے ان نظریات کو تقویت ملتی ہے کہ زہرہ پر سطح مرتفع دراصل قدیم بر اعظم ہیں جن کے گرد کبھی گہرے سمندر تھے اور جو آتش فشانوں کی وجہ سے وجود میں آئے تھے۔ زہرہ کے بلندی پر واقع میدانوں کی حقیقیت حتمی طور پر جاننے کے لیے وہاں خلائی گاڑیوں کو بھیجنا پڑے گا۔

زہرہ کا تصوراتی خاکہ
،تصویر کا کیپشنزہرہ پر آتش فشانوں کےبارے میں ایک تصوراتی خاکہ

زہرہ ایکسپریس کو سن دو ہزار پانچ میں قازقستان سے بھیجا گیا تھا۔ مشن کا مقصد یہ معلبم کرنا ہے کہ زمین کے پڑوس میں یہ سیارہ اس سے اتنا مختلف کیوں ہو گیا حالانکہ دونوں کا ہجم برابر ہے۔ زہرہ سورج کے قریب ہے لیکن دونوں کے درمیان فرق کی صرف یہ وجہ نہیں ہو سکتی۔

زہرہ پر سورج کی گرمی قید ہو جاتی ہے اور اس کی سطح پر اوسط درجہ حرارت چار سو اڑسٹھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زہرہ پر کبھی پانی کے سمندر موجود تھے جو شاید نظام شمسی کے وجود میں آنے کے بعد پہلے ایک ارب سال میں ہی شمسی ہواؤں کی وجہ سے اڑ گیا۔

ایک سوال جو اب بھی حل طلب ہے کہ آیا زہرہ پر موجود آتش فشاں اب بھی فعال ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو بھی یہ بہت چھوٹے آتش فشاں ہوں گے جو نظروں سے اوجھل ہیں۔