برطانیہ: گوگل کی نگرانی شروع

گوگل
،تصویر کا کیپشنگوگل یہ اعتراف کر چکا ہے کہ لوگوں کی ذاتی ای میل اور پاس ورڈز کی نقل کی گئی تھی۔

برطانیہ میں پرائیویسی کا نگراں ادارہ اس معاملے کو دوبارہ دیکھے گا کہ انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے نجی وائی فائی نیٹ ورکوں کے ذریعے لوگوں کی کون سے ذاتی معلومات جمع کی ہیں۔

اس بات کے سامنے آنے کے بعد کہ گوگل نے اپنے سٹریٹ ویو پروجیکٹ کے دوران لوگوں کا ذاتی ڈیٹا جمع کیا ہے برطانیہ کے انفارمیشن کمشنر کے دفتر نے اس سال کے شروع میں اس معاملے کی تحقیقات کی تھیں۔

گوگل نے اس وقت کہا تھا کہ کوئی قابل ذکر ڈیٹا جمع نہیں گیا گیا لیکن اس کے بعد گوگل یہ اعتراف کر چکا ہے کہ لوگوں کی ذاتی ای میل اور پاس ورڈز کی نقل کی گئی تھی۔

فرانس، جرمنی اور کینیڈا سمیت کئی ممالک میں پرائویسی کے نگراں ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر چکے ہیں۔

گوگل کے سینئر وائس پریذیڈنٹ ایلن یوسٹس نے اپنے بلاگ لکھا ہے کہ کمپنی اس بات پر شرمندہ ہے کہ لوگوں کی ذاتی معلومات اکھٹا کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ مواقع پر لوگوں کی ذاتی ای میل، یو آر ایل اور پاس ورڈز تک حاصل کیے گئے۔

ایلن یوسٹس نے کہا کہ جتنی جلد ممکن ہوا اس مواد کو صاف کر دیا جائے گا۔

برطانیہ کے پرائیویسی کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی اپنی تحقیقات تو اس برس جولائی میں مکمل ہو چکی ہیں لیکن ادارے نے اس سلسلے میں ہونے والی بین القوامی تحقیقات پر نظر رکھی ہوئی ہے۔