’لوگ ماضی سے بچنے کو نام بدلیں گے‘

ایرک
،تصویر کا کیپشنایرک کے مطابق لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ان کے بارے نیٹ پر اتنی جانکاری کیوں موجود ہے

گوگل کے مالک ایرک شمٹ نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں لوگ انٹرنیٹ پر اپنی ماضی کی کارگزاری سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنا نام تبدیل کرنے لگیں گے۔

انہوں نے وال سٹریٹ جنرل سے بات چیت میں اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا کہ لوگ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان سے متعلق انٹرنیٹ پر دستیاب اتنی ساری معلومات سے کیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین نہیں ہے کہ سماج اس بات کو سمجھتا ہے کہ جب ہر چیز موجود ہے، ہر شخص جان سکتا ہے اور اسے ریکارڈ کر سکتا ہے تو اس سے کیا ہوگا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ایک سماج کی حیثیت سے ہمیں اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے‘۔

تاہم ایرک شمٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مستقبل میں گوگل اپنے صارفین کے متعلق مزید ذاتی معلومات جمع کرنا چاہےگا۔

تاہم بعض ماہرین کے مطابق مستقبل کے متعلق ایرک کی یہ تشویش بہت زیادہ ہے۔ سماجی میڈیا کے لیے کنسلٹنٹ سوؤ چارمین اینڈرسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خیال کہ آن لائن پر ہر چیز جمع ہے درست نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا بڑی اور ابھی اتنی بے ہنگم ہے کہ ابھی اس میں کافی وقت لگے گا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ گوگل کے آرکیو جیسے’ کیش‘ وغیرہ بھی بہت ہی سلکیٹیو چیزیں جمع کرتے ہیں۔

وہ کمپنیاں جو خاص طور پر انٹرنیٹ پر پروفائل کلین کرتی ہیں پہلے ہی سے موجود ہیں۔ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ویب سائٹ پر جو ذاتی مواد موجود ہے اس کے تیئں سماجی رویہ میں تبدیلی لائی جائے۔’سماج کی حیثیت سے ہم میں نوجوانوں کی احمقانہ حرکتوں کو معاف کرنے کا جذبہ زیادہ ہونا چاہیے‘۔

اس دوران گوگل نے سماجی نیٹ ورکنگ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کئی معاہدے کیے ہیں۔ اس نے’جمبول‘ اور ’سلائڈ‘جیسی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں جو سماجی نیٹ ورکنگ کے لیے ماہر ہیں۔

بعض کا خیال ہے کہ سرچ انجن گوگل نے ان کمپنیوں کی خدمات اس لیے حاصل کی ہے تاکہ وہ ایک اور سماجی نیٹ ورکنگ کی سائٹ لانچ کر سکے۔ بعض نے پہلے ہی سی اس طرح افواہیں اڑائی ہیں اس نئی سائٹ کا نام ’گوگل می‘ ہوگا۔

گوگل کے پاس ’آرکٹ‘ اور ’گوگل بز‘ نامی دو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پہلے ہی سے موجود ہیں۔