’گوگل ہیکنگ کے پیچھے چینی سیاست‘

وکی لیکس دستاویزات سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اس سال گوگل پر ہونے والے ہیکرز کے حملوں کے پیچھے چینی قیادت کا ہاتھ تھا۔
وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والے ایک پیغام میں معتبر ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گوگل کے خلاف کارروائی ’سو فیصد سیاسی‘ نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد مقامی سرچ انجن بیدو کے مقابلے میں گوگل کے اثر و رسوخ کو کم کرنا نہیں تھا۔
کیبل پیغام کے مطابق چین میں برسرِاقتدار کیمونسٹ پارٹی کے پولِٹ بیورو کے ایک رکن گوگل اپنا نام تلاش کرنے اور اس کے ساتھ تنقیدی نوعیت کا مواد پانے کے بعد اتنے غصے میں آ گئے تھے کہ انہوں نے گوگل کے خلاف کارروائی کروائی۔
کیبل پیغام کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت اس کارروائی میں ملوث تھی یا نہیں۔
ایک اور کیبل پیغام میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کو گوگل ارتھ پر ہائی ریزولیوشن تصویروں کے استعمال پر ’انتہائی تشویش‘ تھی۔
جنوری میں گوگل نے کہا تھا کہ اس کے خلاف چین کے اندر سے انتہائی حساس نوعیت کا کا سائبر حملہ کیا گیا ہے۔ گوگل کا کہنا تھا کہ ہیک کیے گئے ای میل اکاؤنٹس میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے اکاؤنٹ بھی شامل تھے۔
اس سال مارچ میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے گوگل پر امریکی حکومت کے آلۂ کار ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے میں شائع ہونے والے ایک اداریے میں کہا گیا ہے کہ گوگل کمپنی چین کی ثقافت اور اقدار میں سرائیت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب گوگل یہ اعلان کرنے کی تیاری کر رہا تھا کہ آیا وہ سنسر شپ کی وجہ سے چینی مارکیٹ سے علیحدہ ہونے کی دھمکی پر عملدرآمد کرے گا یا نہیں۔
انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کی سائٹ کے ہیکنگ اور سنسر شپ معاملے پر چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور بیان بازی کا سلسلہ کچھ عرصےسے جاری رہا تھا۔



















