گوگل شاید چین میں آپریشن بند کر دے

انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے کہا ہے کہ وہ چین میں اپنے آپریشنز بند کر سکتا ہے کیونکہ چین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے ای میل اکاؤنٹس کو مبینہ طور پر چیک کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین سے بہت ہی مہارت سے ہمارے کارپوریٹ کے ڈھانچہ پر حملہ کیا گیا ہے۔
گوگل نے براہِ راست چین کی حکومت پر اس کا الزام نہیں لگایا لیکن اس کا کہنا ہے کہ اب وہ چین کی خواہش پر ان سائٹس پر پابندی نہیں لگائے گا جو حکومت کو پسند نہیں ہیں۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ 2006 میں بنائی جانے والی سائٹ کو شاید بند کرنا پڑے۔
جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی نیو یارک میں گوگل کے حصص 1.9 فیصد گر گئے۔
گوگل کے ڈیوڈ ڈرمنڈ کہتے ہیں: ’حملہ کرنے والوں کا بنیادی مقصد چین کے انسانی حقوق کے کارکنوں کے جی میل اکاؤنٹس تک رسائی تھا۔‘
کمپنی نے کہا ہے کہ اس کو حملے کے بعد کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دو جی میل اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ سے صرف وہ واجبی سی معلومات لے سکے ہیں جیسا کہ اکاؤنٹ کب بنا اور اس کے مضمون کی سرخی کیا تھی نہ کہ پوری ای میل کا مضمون۔
انہوں نے کہا کہ ان اکاؤنٹس کو فشنگ سکیم اور مالویئر سافٹ فیئر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوگل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں چینی حکومت سے بات چیت کرنے والے ہیں کہ کس طرح قانون میں رہ کر وہ بغیر کسی فلٹر کے سرچ انجن کو آپریٹ کر سکیں۔







