گوگل پر سائبر حملوں کی تردید

امریکی حکومت گوگل کے الزامات سے متعلق چینی حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے: ہیلری کلنٹن
،تصویر کا کیپشنامریکی حکومت گوگل کے الزامات سے متعلق چینی حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے: ہیلری کلنٹن

چین نے امریکہ پر دوہرے معیارات اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے گوگل پر سائبر حملوں میں ریاستی سطح پر ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

چین کی وزارتِ صنعت کے ایک ترجمان نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ چین پر سائبر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

’یہ الزام کہ چینی حکومت کسی بھی طور پر کسی سائبر حملے میں ملوث ہے بے بنیاد ہے۔ ہم ایسی کسی بھی کارروائی کے خلاف ہیں۔ انٹرنیٹ سیفٹی کے بارے میں چین کی پالیسی شفاف اور منصفانہ ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ ہِلیری کلنٹن نے اسی ہفتے چین سے کہا تھا کہ وہ گوگل کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کی تحقیق کرے کہ اسے چین میں موجود ہیکرز کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

سرچ انجن گوگل نے دھمکی دی ہے کہ وہ چین میں اپنے آپریشن بند بھی کر سکتا ہے۔

دوسری طرف چین کے سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے امریکی انٹرنیٹ حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ امریکی حکمتِ عملی کا مقصد انٹرنیٹ فنڈز، ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ سے فائدہ اٹھانا اور اپنی سیاست، کامرس اور کلچر کو اپنے سیاسی، تجارتی اور کلچرل مفادات کے لیے دیگر ملکوں کو برآمد کرنا ہے۔

اخبار نے امریکی حکومت پر دوہرے معیارات اپنانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ خود اس کی کچھ ایجنسیاں بڑی تعداد میں نجی ای میل اکاؤنٹوں کی غیر قانونی چیکنگ میں ملوث ہیں۔

اس سے پہلے چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ دیگر ممالک کی طرح چین بھی قوانین کے تحت انٹرنیٹ کی نگرانی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے کہا ہے کہ وہ اپنے چائنز سرچ انجن کو چینی قوانین کے تحت سنسر کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

اس فیصلے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کو چین میں اپنے آپریشنز بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔

تاہم چین نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر ملک انٹرنیٹ کمپنیوں کو چین میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح چین بھی قوانین کے تحت انٹرنیٹ کی نگرانی کرتا ہے۔ ’چین میں انٹرنیٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت ہے اور چینی حکومت اس صنعت کی ترقی کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

گوگل نے چین کی حکومت پر سائبر حملوں کا الزام نہیں عائد کیا ہے لیکن کہا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ انسانی حقوق کے کارکن ہیں جن کی ای میل کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گوگل نے 2006 میں چینی حکومت کے دباؤ کے تحت اپنے سرچ انجن کو سنسر کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کی وجہ سے اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انٹرنیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر گوگل چائنز سرچ انجن ’گوگل ڈاٹ سی این‘ کو سنسر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہا تو اسے شاید چین میں اپنی سروس بند کرنی پڑے گی۔گوگل کے فیصلے کے بعد نیویارک سٹاکس میں گوگل کے شیئر ایک فیصد گرگئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ گوگل کے الزامات بہت سنجیدہ ہیں اور امریکی حکومت چینی حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے۔

شنگھائی میں بی بی سی نیوز کے نمائندے کرس ہاگ کا کہنا ہے کہ گوگل کی طرف سے حکام سے بات کرنے سے پہلے ہی کھلے عام اپنی سروس بند کرنے کے فیصلے سے چینی اہلکار یقیناً غصے میں ہوں گے۔

گوگل کے چیف لیگل افسر ڈیوڈ ڈرمنڈ کا کہنا ہے کہ سائبر حملہ آوروں کا اولین نشانہ چین کےانسانی حقوق کے کارکنوں کے جی میل اکاونٹ ہیں۔گوگل کے سرچ انجن کی چین میں مالیت ایک ارب ڈالر ہے۔

گوگل کے پاس چینی سرچ انجن کی مارکیٹ کا چھبیس فیصد حصہ ہے جبکہ چین میں بیدو سرچ انجن سب سے مقبول ہے اور مارکیٹ کا حصہ ساٹھ فیصد اس کے پاس ہے۔ چینی مارکیٹ میں یاہو کا حصہ صرف دس فیصد ہے۔