انٹرنیٹ: چین کی ہیلری کے بیان پر تنبیہہ

چین میں انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد پینتالیس کروڑ سے زائد ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچین میں انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد پینتالیس کروڑ سے زائد ہے

چین نے یہ کہتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی آزادی کے مطالبے کا استعمال نہ کرے کیونکہ یہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرنے کا بہانا ہے۔

چین کی وزرات خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک اعلان کیا تھا کہ دنیا میں اختلاف رائے رکھنے والوں کی مدد کے لیے اقامدات کیے جائیں گے تاکہ وہ حکومتی کنٹرول میں انٹرنیٹ سے باہر آ سکیں۔

منگل کو انھوں نے واشنگٹن یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی پر اپنی دوسری اہم تقرر میں تمام ممالک سے کہا تھا وہ انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے مشترکہ ضابطے اپنائیں۔

انھوں نے ان ممالک پر تنقید کی تھی جو انٹرینٹ سے متعلق حربوں کے ذریعے اپنے شہریوں کو دباتے ہیں۔

ہیلری کلنٹن کے مطابق تیونس اور مصر کے حکمرانوں کا تختہ الٹنے کی تحریک اور ایران کے حالیہ احتجاج میں انٹرنیٹ کی وجہ سے شدت آئی اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتوں کو زیادہ عرصہ یہ طے نہیں پڑے گا کہ شہریوں کو کس قسم کی آزادی عطا کرنی ہے۔

ہیلری کلنٹن کے بیان کے بعد سے چین کی ٹوئٹر کی طرز پر مقبول ویب سائٹ مائیکرو بلاگ سے تبصرے ہٹا دیے گئے ہیں۔

چین میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ سفارت خانے کے آن لائن تبصرے بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔

’ہمیں اس پر بڑی مایوسی ہوئی ہے کہ چین کی چند ویب سائٹس نے سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کی انٹرنیٹ آزادی سے متعلق تقرر پر بحث کو ہٹا دیا ہے۔‘

’ یہ بڑا طنز آمیز ہے کہ چینی انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق ایک آن لائن بحث کو بلاک کر رہے ہیں۔‘

چین میں امریکی سفیر کے اس بیان کی بیجنگ میں امریکی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین میں انٹرنیٹ کے صارفین مقامی قوانین کے تحت آزادی رائے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق اقدامات کے لیے پچیس ملین ڈالر کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہیلری کلنٹن نے انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق اقدامات کے لیے پچیس ملین ڈالر کا اعلان کیا تھا

جمعرات کو معمول کی نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر چین دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے لیکن’ کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف انٹرنیٹ کی آزادی کا استعمال ’اندرونی معاملات‘ میں مداخلت کے تناظر میں لیا جائے گا۔

گزشتہ سال بھی ہیلری کلنٹن کی اسی طرح کی تقرر پر چین نے واشنگٹن کو’ انفارمیشن کا سامراجی نظام‘ کہا تھا۔

چین میں اس وقت انٹرنیٹ کی سب سے بڑی منڈی ہے اور وہاں صارفین کی تعداد پینتالیس کروڑ ستر لاکھ ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر چین میں بلاک ہے لیکن اسی طرز کی دیگر ویب سائٹس سنئا ویبو اور ٹینسنٹ ویبو لاکھوں صارفین میں بہت مقبول ہیں۔

چین میں حکومت سنسر شپ کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتی ہے اور اس کو ’ گریٹ فائر وال آف چین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فائر وال کو پورنوگرافک اور دیگر متنازعہ مواد تک رسائی کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔