چینی صارفین کے لیے غیر سینسر شدہ مواد

انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے کہا ہے کہ حکام کی شدید مخالفت کے باوجود وہ اپنے چینی صارفین کو غیر سینسر شدہ مواد تک رسائی دے رہا ہے۔

جنوری میں گوگل نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے چین کے اندر سے ایک ماہرانہ سائبر حملے کا سامنا ہے۔

گوگل چین میں اپنے سائٹ کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ چینی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ گوگل اپنے سائٹ کے ذریعے امریکی اقدار لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اب گوگل کے ویب سائٹ پر آنے والے صارفین کو گوگل ہانگ کانگ کے سائٹ پر لایا جاتا ہے جہاں انہیں مکمل سرچ سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔

اپنے ردِ عمل میں چین نے کہا ہے کہ گوگل ان وعدوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس نے چین میں مارکیٹ میں آنے کے موقع پر کیے تھے۔ چین کا کہنا ہے کہ اس وقت گوگل نے وعدہ کیا تھا کہ وہ قانون کے مطابق اپنی سرچ سہولیات کو فلٹر کرے گا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے ایک حکومتی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ اس وقت گوگل کا قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔ انہوں نے ماضی میں چین کی طرف سے لگائے جانے والے ہیکنگ کے الزامات کو بھی غیر مناسب قرار دیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گوگل کا یہ اقدام ایک درمیانہ راستہ ہے جسے چینی حکام کی طرف سے ہانگ کانگ سائٹ تک رسائی بلاک کرنے کی صورت میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنوری میں گوگل نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے چین کے اندر سے ایک ماہرانہ سائبر حملے کا سامنا ہے۔

چین نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ گوگل اور چین اپنے درمیان پائے جانے والے اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے ترجمان مائیک ہیمر نے کہا ہے کہ امریکہ کو اس بات پر مایوسی ہوئی ہے کہ گوگل اور چینی حکومت کسی ایسی مفاہمت پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جس کی بنیاد پر گوگل چین سے اپنی سرچ سہولیات جاری رکھ سکتا۔

چینی حکومتی اہلکاروں نے بار بار گوگل کو خبردار کیا ہے کہ اسے ملک کے سینسرشپ قواعد کی پابندی نہ کرنے پر منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل نے کہا ہے کہ چینی حکام کے ساتھ ان کا بات چیت میں انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ خود اپنی طرف سے عائد کی جانے والی سینسرشپ ایک اسی قانونی ضرورت ہے جس پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔