فیس بک کے مقابلے میں گوگل پلس

انٹرنیٹ کے ایک بڑے گروپ گوگل نے فیس بک کے مقابلے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ گوگل پلس کا آغاز کر دیا ہے۔
فیس بک کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد پچاس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
گوگل پلس پر انفرادی طور پر تصاویر اور پیغامات کا تبادلہ کرنے کے علاوہ گوگل کی نقشوں اور تصاویر کی سہولیات موجود ہوں گی۔
اس کے علاوہ صارفین کو آسانی سے گروپس کے اندر ہی رابطوں کو منظم کرنے میں آسانی ہو گی۔
<link type="page"><caption> فیس بک کی گوگل مخالف مہم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/05/110513_facebook_campaign_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل پلس میں فیس بک کی خصوصیات کا ہی دوبارہ سے استعمال کیا گیا اور اضافی طور پر اس میں ویڈیو چیٹ یا ویڈیو بات چیت کا اضافہ کیا گیا ہے۔
گوگل نے حالیہ سالوں میں فیس بک کے کے مقابلے میں متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ تاہم ماضی میں گوگل کو اس حوالے سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
گوگل کی جانب سے شروع کیے جانے والے گوگل ویوز اور گوگل بز کو صارفین میں مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار گوگل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ گوگل پلس میں چار نئی خصوصیات شامل کی ہیں جس کی مدد سے اسے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا ایک اہم کھلاڑی بننے میں مدد مل سکتی ہے۔
گوگل نے گوگل پلس کو ابھی صارفین کی ایک محدود تعداد کے لیے جاری کیا ہے لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ جلد ہی ویب سائٹ لاکھوں صارفین روزانہ کی بنیاد پر استمعال کرنے کے لیے دستیاب ہو گی۔
گوگل سروسز کی نائب صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ آن لائن شیئرنگ کو سنجیدگی سے دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔‘
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوگل کو فیس بک کے پرستار صارفین کو اپنی ویب سائٹ پر لانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک تحقیقاتی کمپنی ای مارکیٹنگ سے منسلک تجزیہ کار ڈیبرو آہو ویلمیسن کا کہنا ہے کہ’ فیس بک پر صارفین کے اپنے سماجی حلقے ہیں اور اس صورت میں ان کو ایک نیا حلقہ بنانے کے لیے کہنا ایک مشکل کام ہے۔‘





















