فیس بک کی گوگل مخالف مہم

فیس بک فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفیس بک نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے گوگل صارفین کی معلومات سامنےلانے کے لیے برسن مارسٹیلر کی خدمات حاصل کیں

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنے حریف گوگل کے امیج کو خراب کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔

فیس بک نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ایک پبلک ریلیشن کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ وہ گوگل کی صارفین مخالف معلومات کو سامنے لائیں۔

اس بات کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب ایک پبلک ریلیشن کمپنی برسن مارسٹیلر نے ایک بلاگر کی ای میل کی تفصیلات شائع کر دیں۔

اس سے پہلے برسن اپنے ایک نامعلوم گاہک کی گوگل سروس سے متعلق معلومات کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔

بلاگر کرس سوگین اس سے پہلے ان معلومات کو افشا نہیں کرنا چاہتے تھے تاہم بعد میں انہوں نے برسن کے ساتھ کی جانے والی ای میلز جاری کر دیں۔

جب یہ ای میلز شائع کی گئیں تو افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ گاہک کون ہو سکتا ہے۔ متعدد افراد کے خیال میں مائیکروسافٹ یا ایپل ایسا کر سکتے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ڈیلی بیسٹ‘ نے اُس گاہک کے بارے میں بتایا کہ وہ فیس بک ہے۔

فیس بک نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے گوگل صارفین کی معلومات سامنےلانے کے لیے برسن مارسٹیلر کی خدمات حاصل کیں تاہم فیس بک نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے اپنے حریف گوگل کے امیج کو خراب کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔

برسن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ آیا صارفین اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے متعلق معلومات کسی اور کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

برسن نے سوگین کو بتایا امریکی عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ گوگل کس طرح اُن کی روزمرہ کی معلومات کو اُن کی اجازت کے بغیر شائع کر رہا ہے۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے رونامہ ڈیلی بیسٹ کو بتایا کہ انہوں نے گوگل کی جانب سے فیس بک صارفین کے ڈیٹا کو اپنے سوشل نیٹ ورکنگ میں استعمال کرنے پر برا منایا ہے۔

واضح رہے کہ انٹر نیٹ کی دو بڑی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا شیئر کرنے میں ناکامی پر ایک دوسرے کے سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایک پبلک ریلیشن کمپنی سپریکلی کے مینجنگ ڈائریکڑ رچرڈ میرن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربوں کو کبھی بھی پسند نہیں کیا جاتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ پبلک ریلیشن کمپنی اور فیس بک کے درمیان ہونے والی گفتگو پر غور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دریں اثناء فیس بک اور گوگل نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔