سوشل میڈیا: سائبر جہاد میں استعمال کا خطرہ

خدشہ ہے کہ شدت پسند گروپ فیس بک میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنخدشہ ہے کہ شدت پسند گروپ فیس بک میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں

برطانوی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ القاعدہ آن لائن ٹیکنالوجی کو اپنی سائبر جہاد کی پالیسی کے تحت دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروپوں کی طرف سے اپنے پیغام کو پھیلانے اور لوگوں کو انتہا پسندی پر اکسانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمام عام ہے۔

اس موقع پر جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ شدت پسند گروپ فیس بک میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا کہ برطانیہ کو اس خطرے سے بھی ضرور نپٹنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے القاعدہ کو سن دو ہزار ایک کے بعد سب سے کمزور پوزیشن تک پہنچا دیا ہے۔

برطانیہ میں اگرچہ دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو ’شدید‘ سے کم کر کے ’کافی‘ کر دیا گیا تھا جو یہ ظاہر کرنا ہے کہ دہشت گرد حملے کا امکان ابھی تک کافی زیادہ ہے۔

گزشتہ سال حکومت نے سائبر حملوں کو برطانوی سکیورٹی کے لیے سب سے سنگین ’ٹیئر 1‘ خطرہ قرار دیا تھا اور اہم انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پینسٹھ کروڑ پاؤنڈ کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی تھی۔

برطانوی وزیر دفاع نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ ان کے محکمے پر گزشتہ سال کے دوران ایک ہزار ممکنہ سنگین سائبر حملے کرنے کی کوشش کی گئی۔

منگل کے روز جاری ہونے والے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ملک کے آئی ٹی کے نظام پر حملوں کی تعداد میں ممکنہ طور پر اضافہ ہو گا اور شدت پسند سوشل نیٹ ورکنگ اور وڈیو شیئرنگ سائٹوں کے استعمال میں بہت حساس طریقہ کار اپنائیں گے۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے القاعدہ نے ناصرف انفرادی طور پر دہشت گردی کی ترغیب دی ہے بلکہ سائبر جہاد کا بھی کہا ہے۔

’دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کی طرف سے فیس بک میں گھسنے کی بہت کوششیں ہوئی ہیں‘۔

دستاویز کے مطابق ٹوئٹر کو میڈیا کو ری پوسٹ کرنے اور شدت پسند مواد کو زیادہ تیزی سے شیئر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔