’صارفین کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے صارفین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

فیس بک کا یہ بیان ان سائڈ فیس بک نامی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ کے دعوے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ مئی میں فیس بک کے صارفین کی امریکہ میں ساٹھ لاکھ اور برطانیہ میں ایک لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔

اس دعوے کے جواب میں فیس بک کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ پر صارفین کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو رہا ہے اور اضافےکے نتائج سے ادارہ خوش ہے۔

’ہمیں اکثر ایسی خبریں ملتی رہتی ہیں کہ صارفین کی تعداد میں کئی علاقوں میں کمی آئی ہے۔ ان میں سے کئی رپورٹیں ہماری ویب سائٹ پر موجود اشتہاروں کی تعداد کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔‘

’تاہم ان اشتہارات سے صرف یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اشتہار کہاں کہاں دیکھے اور پڑھے جا رہے ہیں۔ لیکن ویب سائٹ کے صارفین کی مجموعی تعداد میں اضافے یا کمی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔‘

’ہم صارفین کی بڑھتی تعداد اور ان کے فیس بک کو استعمال کرنے سے مطمئین ہیں۔ رجسٹرڈ صارفین میں سے پچاس فیصد سے زائد روزانہ کی بنیاد پر ویب سائٹ کو استعمال کرتے ہیں۔‘

ان سائڈ فیس بک کے مطابق رواں سال مئی میں صرف کینیڈا میں پندرہ لاکھ صارفین نے فیس بک کا استعمال ترک کر دیا۔

لیکن مکمل جائزے کے مطابق صارفین میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی کل تعداد اب چھ سو ستاسی ملین تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری نگرانی کرنے والے ویب سائٹس کے نتائج بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ فیس بک کو استعمال کرنے والے دنیا بھر میں بڑھ رہے ہیں۔

نگرانی کرنے والےادارے نیلسن کے ترجمان کے بقول، ’چند ایسے ماہ ہوتے ہیں جن میں صارفین کی تعداد کم ہو جاتی ہے لیکن میں ان نتائج کو مستقل نہیں کہوں گا۔‘