گوگل موٹرولا سے کیا چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گوگل نے موٹرولا کمپنی کے اس حصے کو خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جو موبائل بنانے کا کام کرتا ہے اور اس اقدام سے دو بڑے میدانوں میں گوگل کی پوزیشن بہتر ہوگی۔
موبائل ٹیلی فون سیٹ بنانے کا اختیار حاصل ہونے کے بعد گوگل سافٹ ویئرز اور ہارڈ ویئرز کی مارکیٹ میں ایپل کی برتری ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس اقدام سے گوگل کو ٹیکنالوجی پیٹینٹ یعنی ٹیکنالوجی کے دستاویزات تک رسائی حاصل ہو جائے گی جو وہ اس صنعت میں اپنے مخالفین کے ساتھ قانونی کارروائیوں میں اپنے دفاع کے لیے استعمال کر سکے گا۔
اس شعبے پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ماضی کے لیے نہیں مستقبل کے لیے ہے۔ کاپی رائٹس خریدنے کا مطلب مقابلے کی جنگ میں خود کو زیادہ سے زیادہ مسلح کرنا ہے۔
عموماً جو کمپنیاں زیادہ ایجادات کی مالک ہوتی ہیں وہ ان میں سے کوئی ایک کام کرتی ہیں: ایک یہ کہ وہ دوسری کمپنیوں کو پیسوں کے عوض اپنی مصنوعات کے استعمال کی اجازت دیتی ہیں یا وہ دو طرفہ معاہدے جن میں ایک دوسرے کی پیٹنٹ ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو یا وہ ایک دوسرے پر مقدمہ کرسکیں۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ برتری کے اس کھیل میں کتنا رسک ہے اور کاروبار میں ترقی کے لیے زیادہ طاقت کس قدر اہم ہے اور بالآخر کون اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔
موٹرولا کے پاس سترہ ہزار موبائل پیٹینٹ ہیں اور ہزاروں ابھی التواء میں ہیں۔ تاہم پیٹینٹ کے بارے میں تجزیہ کار فولرین مولر نے خبردار کیا ہے کہ شاید وہ گوگل کی امید کے مطابق تحفظ فراہم نہ کرسکیں۔
دو ہزار دس میں ایپل نے موٹرولا کو اس کے ژوم ٹیبلٹ پر ہرجانہ کیا تھا اور مائیکرو سافٹ نے اس کے سمارٹ فون کے بعض جزیات کے باعث اس کے خلاف قانونی کارروائی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایپل اور مائیکرو سافٹ کے اشتراک نے حال ہی میں گوگل کی ایک کینیڈین ٹیلی کام فرم نارٹیل کے پیٹینٹ خریدنے کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔
موٹرولا کے ساتھ شامل ہونے پر گوگل نے کہا تھا کہ وہ صرف اپنا دفاع نہیں کرنا چاہتا بلکہ ہارڈویئر کے تحفظ کے دائرہ کار کو بڑھانا چاہتا ہے۔
گوگل کے موٹرولا موبیلٹی کے لیے ساڑھے بارہ ارب ڈالر کی فراغ دلانہ بولی صرف پیٹینٹ کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ سے گوگل کو موبائل ہارڈ ویئر کے کاروبار میں قدم جمانے کا موقع بھی ملے گا۔
اسی عمودی رویے کا ایپل کو بہت فائدہ ہوا تھا جس نے اپنے آئی فونز، آئی پیڈز اور اپنے سافٹ وئیر اور اپیلکشینز کی فروخت سے خوب پیسہ کمایا۔
تاحال گوگل اور موٹرولا کے اشتراک پر سیم سنگ اور ایچ ٹی سی سمیت دوسری کمپنیوں کا ردِ عمل مثبت آیا ہے اور زیادہ تر نے اینڈرائڈ کو بیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔
تاہم ان سب کے پیغامات مختصر رہے اور ان میں ایک حقیقی خوشی دکھائی نہیں دی۔
تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر موٹرولا کی بہت زیادہ حمایت جاری رہی تو شاید یہ مصنوعی خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہے۔






















