روشنی سے تیز نیوٹرینو کے دوبارہ تجربات

،تصویر کا ذریعہa

روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز سفر کرنے والے سب اٹامک ذرات کا پتہ چلانے والے سائنسدانوں نے اس ضمن میں مختلف انداز میں دوبارہ تجربات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مختلف طریقوں سے دوبارہ تجربات کرنے کا مقصد تجربے کے نتائج پر ہونے والی تنقید کا جواب دینا اور تحقیق کو شائع کرنے سے پہلے ماہر طبیعات کو تجزیے کا زیادہ سے زیادہ موقع دینا ہے تاکہ وہ اپنے مشاہدے کو حتمی انجام تک پہنچائیں۔

<link type="page"><caption> روشنی سے تیز ذرات، سائنسدان پریشان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/09/110923_light_speed_cern_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ستمبر میں جوہری تحقیق کی یورپی تجربہ گاہ ’سرن‘ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے تجربات کے دوران ایسے ’سب اٹامک‘ ذرات کا پتہ چلایا ہے جو روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہیں۔

ان تجربات کے نتائج نے طبیعات کے ماہرین کو چونکا دیا تھا کیونکہ یہ طبیعات کے ایک بنیادی اصول سے متصادم ہیں۔

نتائج سے متصادم آنے والی زیادہ تر رائے میں کہا گیا ہے کہ بار بار دہرائے گئی’دانستہ غلطیوں‘ کی وجہ سے اب تک تجربات قابو میں نہیں آسکے ہیں۔

ستمبر سے اب تک تجربے کے مشاہدے پر اسی سے زائد جوابات بھیجے گئے ہیں جن میں زیادہ تر میں مشاہدے کو جانچنے کے لیے نظریاتی حل تجویز کیے ہیں جب کہ چند ایک میں مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سرن میں ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر سرگیو برٹرولوسی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ’ گزشتہ کچھ دونوں سے ہم نے مختلف اوقات میں بیم کو گران ساسو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔‘

’اس وجہ سے دوبارہ پیمائش کرنے کا موقع ملے گا اور کچھ ممکنہ غلطیوں کو دور کرنے کو موقع ملے گا۔‘

خیال رہے کہ ستمبر میں تجربے کے دوران روشنی کی رفتار کے ساتھ سفر کرنے والے نیوٹرینوز کو سرن لیبیاٹری سے اٹلی میں سات سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گران ساسو لیبیاٹری بھیجا گیا تھا تاہم نیوٹرینو کی واپسی روشنی کی رفتار سے ایک سیکنڈ قبل ہوئی۔

اگر ان نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے مشہور ماہرِ طبیعات آئن سٹائن کے نظریۂ اضافت کے ایک بڑے حصے کی تردید ہو جائے گی جس کے تحت روشنی کی رفتار سے کوئی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی۔

سرن کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ ان نتائج پر یقین کرنے کے معاملے میں مخمصے میں ہیں اور انہوں نے دیگر سائنسدانوں سے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں۔