دو انتہائی بڑے بلیک ہول دریافت

،تصویر کا ذریعہSPL
نیچر نامی جریدے کے مطابق ایک امریکی ٹیم نے خلاء میں دو انتہائی بڑے ’بلیک ہول‘ دریافت کیے ہیں۔
ہمارے دو قریبی کہکشاؤں کے درمیان میں واقعہ یہ بلیک ہول سورج سے تقریباً دس ارب گنا بڑے ہیں۔ تاہم اب سے پہلے دریافت ہونے والے بلیک ہول سورج سے زیادہ سے زیادہ صرف چھ اعشاریہ تین ارب گنا بڑے ہیں۔
زمینی اور خلائی ٹیلی سکوپ کی مدد سے کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق اگرچہ اکثر کہکشاؤں کے درمیان، جن میں ہماری کہکشاں ملکی وے بھی شامل ہے، اس طرح کے انتہائی بڑے بلیک ہول پائے جاتے ہیں لیکن ان بلیک ہول کا حجم اس قدر بڑا ہے کہ ان کے گرد کہکشاؤں سے واضح نہیں ہوتا۔
اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بڑی اور چھوٹی کہکشاؤں کے بڑھنے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔
یہ دریافت ہماری قریبی کہکشاؤں این جی سی 3842 اور این جی سی 4889 کا معائنہ کرنے سے ہوئی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلی کے نیکلس جے مکونل اور ان کے ساتھیوں نے انکشاف کیا ہے کہ این جی سی 3842 کے بلیک ہول کا حجم سورج سے نو اعشاریہ سات گنا بڑا ہے جبکہ ایسے ہی حجم کا بلیک ہول این جی سی 4889 کے بیچ بھی موجود ہے۔
قدیم خلائی کوآثار کی پیمائش سے واضح ہوا تھا کہ سورج سے دس ارب گنا بڑے بلیک ہول کا وجود میں ہونا ممکن ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی میشیل کیپیلاری نے نیچر جریدے میں ایک تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ ’یہ بلیک ہول اُن قدیم بلیک ہولز کے گمشدہ حصے ہو سکتے ہیں جن سے کائنات کے ابتدائی دور میں سب سے زیادہ روشن کوآثار نکلے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















