سنسر شپ پر ٹوئٹر کو کڑی تنقید کا سامنا

،تصویر کا ذریعہPA
انٹرنیٹ پر مائیکروبلاگنگ کی مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر کو اس اعلان پر شدید تنقید کا سامنا ہے کہ وہ چنندہ ممالک میں پیغامات کی ترسیل روک سکتا ہے۔
ٹوئٹر نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس ایسی نئی ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی مدد سے وہ دنیا کے کئی ممالک کے مختلف داخلی قوانین کی پاسداری کر سکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر سنسر کرنے والوں کا ساتھ دے رہا ہے اور یہ فیصلہ اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بری خبر ہے۔
تاہم ٹوئٹر کے مطابق اس کا ’سنسر شپ ٹول‘ اس بات کو یقینی بنانے کا ذریعہ ہے کہ ٹویٹس یا پیغامات تک دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو رسائی رہے۔
بلاگرز اور سماجی روابط کی ویب سائٹس کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اقدام سے ٹوئٹر کی آزادی اظہار سے وابستگی کم ہو جائے گی۔
سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والے بلاگر جیف جاروس کا کہنا ہے کہ ’ٹوئٹر کے اس عمل نے اسے سنسر شپ کی پھسلنے والی ڈھلوان سطح پر لا کھڑا کیا ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جیسا کہ گوگل کو چین میں پتہ چلا ہے کہ جب آپ سنسر کرنے والوں کے ایجنٹ بن جاتے ہیں تو مشکلات پیدا ہوتی ہیں‘۔
خیال رہے کہ اب تک ٹوئٹر کو ایک ایسا سوشل میڈیا نیٹ ورک سمجھا جاتا تھا جو کہ سنسر شپ سے آزاد تھا اور گزشتہ برس مشرقِ وسطٰی میں حکومت مخالف تحاریک کے دوران اس کا استعمال عام تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹوئٹر کے نئے سنسر شپ ٹول کے تحت اب کسی پیغام کو ایک مخصوص ملک میں ٹوئٹر کے صارفین کے لیے مٹایا جا سکے گا جبکہ وہ پیغام باقی دنیا کے صارفین کے لیے میسر ہوگا۔
ماضی میں اگر کوئی پیغام مٹایا جاتا تو اسے دنیا میں کہیں بھی نہیں پڑھا جا سکتا تھا۔
ٹوئٹر اب ہٹائے جانے والے ٹویٹ کے بارے میں ایک سنسر شپ نوٹس بھی جاری کرے گا۔ گوگل یہ عمل کئی سال سے جاری رکھے ہوئے ہے جہاں وہ کسی ملک کے قانون کے تحت ہٹائے جانے والے سرچ نتائج کے لیے نوٹس جاری کرتا ہے۔
گوگل کی ہی طرح ٹوئٹر بھی حکومتوں، کمپنیوں اور افراد کی جانب سے پیغامات ہٹانے کی درخواستوں کو ایک ویب سائٹ پر شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔



















