’جدید ٹیکنالوجی فسادات کی ذمہ دار‘

کیا سوشل میڈیا اور موبائل ٹیلی کمیونیکیشن نے لندن میں سینچر سے شروع ہونے والے فسادات میں جلتی پر تیل کا کام کیا؟
برطانیہ کے سیاست دان، ذرائع ابلاغ کے تبصرہ نگاروں اور پولیس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر اور بلیک بیری کے ذریعے کی جانی والی پیغام رسانی کا بھی ان فسادات میں اہم کردار ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لندن کے فسادات میں شامل کچھ افراد نے اپنے موبائل فونز کے ذریعے ان لمحات کو براہِ راست بیان کیا۔
اُن میں بعض ایسے احمق بھی تھے جو بہت فخر سے اپنے ساتھ لوٹے ہوئے سامان کی تصاویر بھی اپ لوڈ کر رہے تھے۔
بعض افراد نے پیغام رسانی کے ذریعے یہ بھی تجویز دی کہ اگلا ہدف کون سی جگہ ہونی چاہیے۔
اس صورتحال نے میٹرو پولیٹن پولیس کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر سٹیو کوانگا کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ وہ ٹوئٹر استعمال کرنے والے ایسے افراد کو جو دوسروں کو تشدد ہر اکساتے ہیں گرفتار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
ٹوٹنہم کے علاقے سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمان ڈیوڈ لیمے نے دعوی کیا تھا کہ ٹوئٹر کے ذریعے فسادات کو منظم کیا گیا تھا لیکن ٹوئٹر کی سائٹ پر عوام کی جانب سے آنے والے پیغامات میں ایسا کوئی پیغام نہیں مل سکا۔
ٹوئٹر استعمال کرنے والے ایک اہلکار گرنز، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ’ویسٹ فیلڈ فساد‘ کے بارے میں ٹوئٹر پر لکھا سے مراد جنوبی لندن کا شاپنگ سینٹر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ ان کے پیغام کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا تبصرہ ایک مبصر جیسا تھا جو ٹی وی پرہونے والے واقعات دیکھ رہا ہو۔
ویسٹ فیلڈ فساد کے حوالے سے کیا جانے والا ٹوئٹر بہت زیادہ موضوع بحث رہا تاہم اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
موبائل یوتھ کے ریسرچ مینجر فریڈی بینجمن نے بی بی سی نیوز کو بتایا جب کوئی شخص بلیک بیری یا ٹوئٹر پر کچھ لکھتا ہے تو بہت سے نوجوان اس رحجان کا پیچھا کرتے ہیں۔
فریڈی کے مطابق اگرچہ وہ افراد اصل واقعہ کا حصہ نہیں ہوتے تاہم وہ اس بارے میں اتنی زیادہ بات کرتے ہیں جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بہت سے افراد اس کا حصہ ہیں۔
کچھ معتبر اطلاعات کے مطابق بعض افراد دوسروں کو فسادات میں شامل کرنے کے لیے پرائیوٹ کمیونیکیشن سسٹم استعمال کر رہے تھے۔
سینچر کو ٹوٹنہم میں ہونے والے فسادات کے بعد بلیک بیری استعمال کرنے والے افراد کو پیغام رسانی کے ذریعے مستقبل میں رونما ہونے والے فسادات کی جگہوں کی تجویز پیش کی گئی۔
بلیک بیری استعمال کرنے والے افراد کو ایک مخصوص پِن کے ذریعے دوسرے افراد کی کانٹیکٹ لسٹ تک رسائی دی جاتی ہے جس کے بعد یہ پیغامات بڑے گروپوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تفتیش کاروں کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہو گی کہ پیغام وصول کرنے والے افراد آنے والے پیغامات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔
لندن کی کریمنالوجی یونیورسٹی کے سینئیر لیکچرار ڈاکٹر کرس گیر کو یقین ہے کہ سمارٹ فونز نے فسادات میں ملوث افراد کی مدد کی ہے۔
کرس گیر کے مطابق جب لوگوں نے فسادات میں شامل ہونے کے لیے خود کو منظم کرنےاور سٹرکوں پر آنے کا فیصلہ کیا تو فوری پیغام رسانی نے ان کے لیے یہ کام بہت آسان کر دیا۔
اس حوالے سے انہوں نے سنہ دو ہزار نو میں لندن میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس کے وقت ہونے واے فسادات کی مثال دی۔





















