آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#RoyalsVisitPakistan: کرکٹ میں دلچسپی کی برطانوی شاہی روایت، ملکہ برطانیہ سے کیٹ مڈلٹن تک
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن پہلی بار پاکستان کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ ان کے اس دورے کی مصروفیات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی لاہور میں واقع قومی کرکٹ اکیڈمی کا دورہ بھی شامل ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاہی جوڑے کی پاکستان میں مصروفیات میں کرکٹ کو جگہ دیے جانے کی کیا کوئی خاص وجہ ہے؟
برطانوی شاہی خاندان کھیلوں میں ہمیشہ سے گہری دلچسپی لیتا رہا ہے۔
وہ چاہے ٹینس ہو یا کرکٹ، شاہی خاندان کے کسی نہ کسی فرد کی ان مقابلوں میں موجودگی ان ایونٹس کی اہمیت میں اضافہ کرتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1975 میں پہلی بار منعقد ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کی ٹرافی کی فاتح ویسٹ انڈین کپتان کلائیو لائیڈ کے ساتھ تصویر آج بھی ایک یادگار کی صورت محفوظ ہے۔
لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ کلائیو لائیڈ نے جس شخصیت سے یہ ٹرافی وصول کی وہ کوئی سیاسی شخصیت یا سابق کرکٹر نہیں بلکہ ملکہ برطانیہ کے شوہر شہزادہ فلپ تھے۔
شہزادہ ولیم لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وہ خود بھی کرکٹ کے بہت شوقین ہیں اور برطانیہ میں متعدد چیریٹی اور سماجی رابطوں کے سلسلے میں ہونے والے کرکٹ میچوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔
ملکہ برطانیہ سے مصافحہ ایک اعزاز
لارڈز کے تاریخی میدان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں سے ملکہ برطانیہ کا مصافحہ کرنا برطانوی شاہی روایت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
کسی بھی کرکٹر سے پوچھیں تو وہ ملکہ برطانیہ سے مصافحے کی تصویر کو اپنے البم کی سب سے یادگار تصویر قرار دیتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ سنہ 1971 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انتخاب عالم لارڈز ٹیسٹ کے دوران اپنے کھلاڑیوں کا تعارف ملکہ برطانیہ سے کروا رہے تھے۔
اس ٹیم میں ایک 18 سالہ نوجوان بھی شامل تھا جو اس دورے میں پہلی بار پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوا تھا۔ یہ نوجوان آنے والے برسوں میں دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز کے طور پر پہچانا گیا اور پھر اپنے ملک کا وزیراعظم بھی بنا۔
جی ہاں! وہ نوجوان عمران خان تھے۔
سنہ 1997 میں ملکہ برطانیہ نے دوسری مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تو اس موقع پر راولپنڈی میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ ملکہ برطانیہ پنڈی سٹیڈیم آئیں جہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے ان کا روایتی تعارف کروایا گیا۔
انگلینڈ میں منعقدہ ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران کپتانوں کو بکنگھم پیلس میں بھی ملکہ برطانیہ سے ملنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔
گذشتہ ورلڈ کپ کے موقع پر بھی تمام دس ٹیموں کے کپتانوں کو بکنگھم پیلس میں مدعو کیا گیا تھا۔
پاکستانی کپتان سرفراز احمد ملکہ برطانیہ سے ملاقات کو اعزاز سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملکہ تمام کپتانوں سے ملیں اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شہزادہ ہیری بھی موجود تھے جنہوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟
اس پر سرفراز نے انھیں بتایا کہ وہ وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں جس پر شہزادہ ہیری نے کہا کہ وہ انھیں کسی دن بولنگ کروائیں گے۔سرفراز احمد کا جواب تھا ضرور۔
شاہی جوڑا اور سچن تندولکر
شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن نے اپریل 2016 میں انڈیا کا دورہ کیا تھا۔
اس موقع پر ایک این جی او کے پروگرام کے تحت وہ ممبئی کے ایک کرکٹ میدان میں بھی گئے جہاں انھوں نے کرکٹ کھیلی۔
اس موقع پر انڈین کرکٹر سچن تندولکر اور دلیپ وینگسارکر بھی موجود تھے۔ سچن تندولکر نے اس موقع پر بولر کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے شاہی جوڑے کو بولنگ کروائی۔
پاکستانی کرکٹرز کی برطانیہ میں مقبولیت
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے سنہ 1954 میں پہلی مرتبہ انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں پاکستان نے فضل محمود کی شاندار بولنگ کی بدولت اوول کے ٹیسٹ میں تاریخی فتح حاصل کی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستانی کرکٹ ٹیم باقاعدگی سے انگلینڈ کا دورہ کرتی آئی ہے۔
انگلینڈ میں گذشتہ 50 برسوں سے رہائش پذیر سینیئر صحافی قمراحمد کے خیال میں انگریزوں کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ وہ اگر کسی فرد یا ٹیم کے گرویدہ ہو جائیں تو اس کی تعریف کرنے میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
قمر کے مطابق یہی کچھ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ ہوا ہے جنھوں نے انگریزوں کو اپنے کھیل سے اس قدر متاثر کیا کہ وہ ان کے گرویدہ ہو گئے۔
قمراحمد کو سنہ 1971 کے ایجبسٹن ٹیسٹ میں ظہیر عباس کی ڈبل سنچری یاد ہے۔ ان کے دلکش سٹروکس نے نہ صرف شائقینِ کرکٹ بلکہ انگلینڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی بے حد متاثر کیا تھا اور وہ ظہیر عباس کے ایک ایک شاٹ پر تالیاں بجا کر انھیں داد دے رہے تھے۔
پاکستانی کرکٹرز کی ایک بڑی تعداد انگلش کاؤنٹی کرکٹ کا حصہ رہی ہے۔
خاص کر ستر کی دہائی میں چند ایک پلیئرز کو چھوڑ کر پوری پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہی تھی۔ ان کھلاڑیوں میں انتخاب عالم، مشتاق احمد، ظہیرعباس، صادق محمد، آصف اقبال، ماجد خان، جاوید میانداد، عمران خان، سرفراز نواز اور یونس احمد قابل ذکر تھے۔ بعد میں وسیم اکرم اور وقار یونس نے بھی اپنی غیر معمولی بولنگ سے کاؤنٹی کرکٹ میں زبردست دھاک بٹھائی۔
برطانوی معاشرے نے پاکستانی کرکٹرز کو اپنے اندر اس طرح سمویا ہے کہ کئی پاکستانی کرکٹرز نے ریٹائرمنٹ کے بعد وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی جن میں علیم الدین، خان محمد، وزیرمحمد، مشتاق محمد، آصف اقبال اور سرفرازنواز قابل ذکر ہیں۔
۔