سپاٹ فکسنگ:فیصلہ محفوظ، معطلی برقرار

پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ٹربیونل نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
دوحا میں ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے ٹربیونل کے سربراہ مائیکل بیلوف نے بتایا کہ فیصلہ پانچ فروری کو دوبارہ سماعت پر سنایا جائے گا اور اس وقت تک تینوں کھلاڑی معطل رہیں گے۔
<link type="page"><caption> سپاٹ فکسنگ سکینڈل: کب کیا ہوا؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/01/110111_spot_fixing_timeline_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
محمد عامر کے وکیل نے بھی ٹریبونل سے درخواست کی تھی کہ وہ فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرے اور تمام شواہد کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی اس مقدمے کا فیصلہ کیا جائے۔
برطانوی وکیل مائیکل بیلوف کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے تین رکنی ٹریبونل نے چھ جنوری سے گیارہ جنوری تک قطر کے دارالحکومت دوحا میں تینوں کھلاڑیوں کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران تینوں کھلاڑیوں نے کرپشن کے الزامات سے انکار کیا۔ اس کیس کے اختتامی دلائل پیر کی دوپہر شروع ہوئے تھے اور منگل کی صبح ان دلائل کا خاتمہ ہوا۔
منگل کو ہی ایک نجی پاکستانی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے محمد عامر کے وکیل شاہد کریم نے کہا تھا کہ ’میں مطمئن ہوں کہ سماعت بہت اچھی اور غیرجانبدارانہ رہی اور میں کم از کم اپنے نقطۂ نظر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم پرامید ہیں۔ اب سب ججوں کے ہاتھ میں ہے‘۔
سماعت کی تکمیل کے باوجود اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ مائیکل بیلوف قصوروار ثابت ہونے کی صورت میں کھلاڑیوں کے لیے کسی سزا کا اعلان بھی کریں کیونکہ کھلاڑیوں کے وکلاء ٹربیونل سے ایک مدلل فیصلہ چاہتے ہیں جس کے لیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہ
دوحا میں موجود بی بی سی کے سپورٹس مدیر ڈیوڈ بونڈ کا کہنا ہے کہ اب جبکہ آئی سی سی کا فیصلہ آنے کو ہے کھلاڑیوں کے باہمی تعلقات میں پڑتی دراڑیں صاف دکھائی دینے لگی ہیں۔
ان کے مطابق فاسٹ بولر محمد آصف کا ماننا ہے کہ انہیں دیگر دونوں کھلاڑیوں کے مقابلے میں شک کا فائدہ دیے جانے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ ان کے ساتھی کسی بھی گھپلے میں ان سے کہیں زیادہ ملوث تھے۔
خیال رہے کہ ٹربیونل کے سامنے محمد آصف نے کہا ہے کہ وہ دانستہ طور پر نو بال کروانے کے کسی منصوبے کا حصہ نہیں تھے اور انہوں نے نو بال صرف اس لیے کی کیونکہ ان کے کپتان سلمان بٹ نے انہیں تیز گیند کروانے کو کہا تھا جبکہ سلمان بٹ اور محمد عامر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں یہ نہیں پتا کہ مظہر مجید لارڈز ٹیسٹ میں نو بولز کے حوالے سے درست اندازے لگانے میں کیسے کامیاب ہوا۔

















