سپاٹ فکسنگ: کب کیا ہوا؟

سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ٹربیونل نے پانچ فروری کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے اور اس وقت تک تینوں کھلاڑی معطل رہیں گے۔ یہاں پر گزشتہ سال اگست میں لارڈز کے میدان سے شروع ہونے والے اس معاملے کے چیدہ چیدہ واقعات کی تفصیل دی جا رہی ہے۔
اگست 2010
اٹھائیس اگست
- اٹھائیس اگست کو انگلینڈ کے اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے دعوٰی کیا کہ مظہر مجید نامی ایک ایجنٹ نے اس کے ایک نمائندے سے ڈیڑھ لاکھ برطانوی پونڈ اس لیے وصول کیے کہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں دو پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر طے شدہ موقع پر نو بال کروائیں گے اور اخبار کے مطابق یہ کام کپتان سلمان بٹ کی مرضی سے ہوا۔
- ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد مظہر مجید کو سکاٹ لینڈ یارڈ نے حراست میں لیا تاہم انہیں جلد ہی رہا کر دیا گیا۔ <image id="d7e327"/>
- پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات سنگین ہیں تاہم فی الحال یہ صرف الزامات ہی ہیں جبکہ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے کہا کہ جب تک پولیس ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرتی کسی کھلاڑی کو معطل نہیں کیا جائے گا۔
انتیس، تیس اگست
- انتیس اگست لارڈز میں ’سپاٹ فکسنگ‘ کے سائے میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور دو سو پچیس رنز سے شکست دے کر چار میچوں کی سیریز ایک کے مقابلے میں تین میچوں سے جیت لی۔
- تیس اگست کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ سٹے بازی میں ملوث تمام کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔
ستمبر 2010
دو، تین ستمبر
- برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے جو کھلاڑی حالیہ سکینڈل میں ’ملوث‘ قرار دیے گئے ہیں خود ان کی درخواست پر انھیں دورۂ انگلینڈ کے باقی میچوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔
- آئی سی سی نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کرکٹ کونسل کے آرٹیکل دو کی کئی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
- تین پاکستانی کھلاڑیوں سے سے شمالی لندن کے تھانے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ <image id="d7e353"/>
چار، پانچ ستمبر
- پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ پاکستانی کرکٹرز کو مظہر مجید کے بارے میں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک یا غیر قانونی ہوسکتی ہیں اور وہ اسے صرف اپنے ایجنٹ کے طور پر جانتے تھے۔
- بی بی سی کو معلوم ہوا کہ برطانوی اخبار نے اپنے ’سٹنگ آپریشن‘ کے لیے جو کیش رقم ایک ایجنٹ کو دی تھی اس میں سے چار ہزار پاؤنڈ پولیس کو پاکستانی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کے کمروں سے ملے ہیں۔
- برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ نے انکشاف کیا کہ کرکٹ کا بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کے ایک اور کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہا ہے۔ <image id="d7e368"/>
- اخبار نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے اوپنر یاسر حمید نے دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں اخبار کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
چودہ ستمبر
- آئی سی سی نے پابندی عائد کرنے کے بعد تینوں کھلاڑیوں سے جواب طلب کیا تھا اور چودہ ستمبر کو سلمان بٹ سیمت تینوں کھلاڑیوں نے لندن میں اپنی وکیل کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نوٹس کا جواب دے دیا۔
اٹھارہ-بیس ستمبر
- آئی سی سی نے ایک برطانوی اخبار کی جانب سے دی گئی معلومات کی بنیاد پر انگلینڈ اور پاکستان کے مابین اوول میں کھیلے تیسرے ایک روزہ میچ میں میچ فکسنگ کی اطلاعات کی تحقیقات شروع کر دیں۔ اخبار نے کہا تھا کہ بکیز اس میچ میں سکور کے طریقۂ کار سے پہلے سے آگاہ تھے۔
- انیس تاریخ کو پی سی بی کے سربراہ نے اس میچ میں انگلش بیٹنگ کی ناکامی کی بنیاد پر انگلینڈ کی ٹیم پر میچ فکسنگ کا شبہ ظاہر کیا۔
- اگلے ہی دن انگلش کرکٹ بورڈ نے اس بیان پر اعجاز بٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا۔
تیئیس ستمبر
اٹھائیس ستمبر
- انگلینڈ کے دورے پر جانے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر رہنے والے یاور سعید عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ <image id="d7e402"/> پچھہتر سالہ یاور سعید نے کہا کہ وہ اپنے استعفے کے فیصلے پر کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن وہ ’کچھ عرصے سےاس کے بارے میں سوچ رہے تھے‘۔
انتیس ستمبر
- پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے انگلینڈ کی ٹیم کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بیان پر معافی مانگ لی۔
اکتوبر 2010
چودہ اکتوبر
- انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لندن کے اوول میدان میں کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے کے فکس ہونے کے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔
انیس،بیس اکتوبر
- پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی طرف سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو شفاف بنانے کی وارننگ کے بعد ٹیم کے لیے ایک نئے ضابطہ اخلاق کا اعلان کیا۔
- <bold>پی سی بی نے محمد آصف، محمد عامر اور سلمان بٹ پر پابندی لگا دی کہ وہ تربیت کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا میدان استعمال نہیں کر سکتے۔</bold> <image id="d7e427"/>
تیس،اکتیس اکتوبر
- آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد عامر پر پابندی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی اور معطلی کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔
نومبر 2010
چار نومبر
- پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹر محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف کے سینٹرل کنٹریکٹ معطل کر دیے۔کرکٹ بورڈ کے اہلکار ذاکر خان کا کہنا ہے کہ تینوں کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی کوڈ کے تحت معطل کیے گئے ہیں۔
بارہ نومبر
- آئی سی سی نے پاکستانی کرکٹرز پر عائد سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک غیرجانبدار ٹربیونل کی تشکیل کا اعلان کیا جو چھ سے گیارہ جنوری 2011 تک دوہا میں اس معاملے کی تحقیقات کرے گا۔ <image id="d7e453"/>
سترہ نومبر
- پاکستانی کرکٹر سلمان بٹ کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے تحقیقاتی ٹریبونل میں کھلاڑیوں کی معطلی کی سزا برقرار رکھنے والے مائیکل بیلوف کی موجودگی کو انصاف کے بنیادی اصول سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ اس صورتحال میں انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
دسمبر 2010
چار دسمبر
- بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سربراہ ہارون لوگارٹ نے کہا کہ سپاٹ فکسنگ کے الزام کا سامنا کرنے والے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں پر اگر الزام ثابت نہ ہوا تو یہ ان کے لیے ’مایوس کن‘ ہوگا۔ <image id="d7e469"/>
بیس-بائیس دسمبر
- پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے آئی سی سی سے سپاٹ فکسنگ ٹریبونل کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کر دی تاہم بائیس دسمبر کو آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کمیشن کے سربراہ مائیکل بیلوف نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ سماعت مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔
جنوری 2011
دو جنوری
- پی سی بی نے آئی سی سی کی درخواست پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس اور ون ڈے کپتان شاہد آفریدی کو سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل کے سامنے بطور گواہ پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ <image id="d7e489"/>
چار- چھ جنوری
- سپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنا کرنے والے تینوں پاکستانی کرکٹر آئی سی سی ٹربیونل کی سماعت کے لیے دوہا پہنچ گئے جہاں چھ جنوری سے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی پانچ روزہ سماعت کا آغاز ہوگیا۔
پانچ جنوری
- پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے کمیشن کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ سال اگست میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران خاص مراحل پر پاکستان کھلاڑیوں کے نو بال پھینکنے سے متعلق سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کی پیش گوئی پر خود حیران ہیں۔ <image id="d7e505"/>
- فاسٹ بالر محمد عامر نے تین رکنی کمیشن کو بتایا کہ انہیں نہیں معلوم مظہر مجید نے نو بالوں کے بارے میں برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو کیوں بتایا۔
- فاسٹ بالر محمد آصف نے دیگر دونوں کھلاڑیوں سے مختلف موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے نو بال غلطی سے کرائی تھی کیونکہ انہیں کپتان سلمان بٹ نے کہا تھا کہ وہ ایک تیز بال پھینکیں۔
دس جنوری
- سماعت کے اختتامی دنوں میں کھلاڑیوں کے باہمی تعلقات میں پڑتی دراڑیں صاف دکھائی دینے لگیں اور محمد آصف کا کہنا تھا کہ انہیں دیگر دونوں کھلاڑیوں کے مقابلے میں شک کا فائدہ دیے جانے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ ان کے ساتھی کسی بھی گھپلے میں ان سے کہیں زیادہ ملوث تھے۔
گیارہ جنوری
- سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ٹربیونل نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔دوہا میں ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے ٹربیونل کے سربراہ مائیکل بیلوف نے بتایا کہ فیصلہ پانچ فروری کو سنایا جائے گا اور اس وقت تک تینوں کھلاڑی معطل رہیں گے۔
فروری 2011
چار فروری
- دوہا میں حتمی سماعت سے ایک دن قبل برطانوی پراسیکیوٹرز نے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں اور ایجنٹ مظہر مجید کے خلاف گزشتہ سال انگلینڈ میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران سپاٹ فکسنگ کے لیے رشوت ستانی کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی۔ برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مطابق جب تک عدالت میں ان افراد کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتے تب تک وہ بے قصور سمجھے جائیں۔ سی پی ایس نے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر الزامات کا سامنا کرنے کے لیے برطانیہ آئیں۔
پانچ فروری
- لارڈز ٹیسٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی سماعت کرنے والے تین رکنی ٹربیونل نے اس معاملے کی حتمی سماعت کے بعد محمد عامر پر پانچ سال، محمد آصف پر سات اور سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کر دی۔
- برطانوی قانون دان مائیکل بیلوف کی سربراہی میں قائم تین رکنی غیر جانبدار ٹربیونل نے کھلاڑیوں کے قصوروار ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سلمان بٹ اور محمد آصف کی پابندی کی مدت میں سے بالترتیب پانچ اور دو سال کی کمی کا امکان موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے قواعد کی کوئی اور خلاف ورزی نہ کی تو ان کی پابندی کی مدت پانچ سال بعد ختم ہو سکتی ہے۔


















