سانحہ بلدیہ: پاکستان کو مطلوب شخص بینکاک سے گرفتار

تھائی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے کراچی میں چار سال قبل ایک فیکٹری میں لگنے والے آگ کے سلسلے میں مطلوب ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

تھائی لینڈ کے اخبار بنکاک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے بینکاک کے ریڈ لائٹ علاقے میں ایک ہوٹل سے عبدالرحمان نامی اس شخص کو پاکستانی وارنٹ پر حراست میں لیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عبدالرحمان پر الزام ہے کہ انھوں نے کراچی کی ایک فیکٹری کو اس وقت آگ لگا دی تھی جب اس فیکٹری کے مالکان نے ان کے گروہ کو بھتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی تاریخ کے اس سب سے بڑے صنعتی حادثے میں کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں واقع کارخانے علی انٹرپرائزز میں 12 ستمبر2012 کو لگنے والی آگ سے 255 افراد جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔

عدالتی تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ فیکٹری میں حفاظتی سہولیات موجود نہیں تھی اور حکومت کی جانب سے فیکٹری کا بہتر انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں اس حادثے کے زخمیوں اور ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو 51 لاکھ ڈالر سے زائد زر تلافی دینے کے لیے ایک سمجھوتہ طے پا یا تھا۔

جب کہ فروری میں بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیکٹری میں لگائی جانے والی آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت شر انگیزی اور دہشت گرد کارروائی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن رحمان بھولا اور حماد صدیقی کی طرف سے فیکٹری مکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری کی آمدن میں حصہ دینے سے انکار پر آگ لگائی گئی تھی۔

سنہ 2012 میں حادثے کے فوراً بعد کک کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کی امدای رقم جاری کی گئی تھی۔ جسے پاکستان میں مزدور یونینوں نے انتہائی قلیل قرار دیا تھا۔