آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوگن ہائم میوزیم کی ٹرمپ کو پینٹنگ کے بجائے سونے کے ٹوائلٹ کی آفر
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک کے گوگن ہائم میوزیم نے امریکی صدر کو وائٹ ہاؤس کے لیے شہرہ آفاق ولندیزی مصور ونسٹ وین گوخ کی دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے بجائے انھیں سونے سے بنا ٹوائلٹ دینے کی پیشکش کی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق میوزیم کی جانب سے مغدرت کی گئی ہے کہ وہ وین گوخ کی لینڈ سکیپ پینٹنگ وائٹ ہاؤس کے لیے نہیں دے سکتے۔
تاہم میوزیم نے وائٹ ہاؤس کو اس کے متبادل کے طور پر 18 قیرات سونے سے بنا ٹوائلٹ دینے کی پیشکش کی ہے۔
اس جواب پر وائٹ ہاؤس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ میوزیم کی منتظم نینسی سپیکٹر نے وائٹ ہاؤس کو یہ معذرت اور متبادل کی پیشکش گذشتہ برس ستمبر میں بھی کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔ آپ کو یہ اطلاع دینے کے لیے کہ ہم اسے ادھار نہیں دے سکتے کیونکہ یہ پینٹگ میوزیم کا حصہ ہے۔
انھوں نے امی میل میں لکھا کہ یہ پینٹنگ تھانہوسر کی کلیکشن ہے جس کی بہت ہی غیر معمولی موقع کے بغیر میوزیم سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
میوزیم کی منتظم نے یہ بھی لکھا کہ اٹلی کے آرٹسٹ ماؤریزو کیٹیلن کی جانب سے بنایا گیا سونے کا ٹوائلٹ وائٹ ہاؤس کو طویل عرصے کے لیے ادھار پر دیا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ایک صارف سر گریگر سیزسسٹ نے مذاحیہ انداز میں لکھا کہ یہ ٹرمپ کے امریکہ کے لیے ایک استعارے کی طرح ہے میوزیم کے لیے ہر کسی کو عطیات دینے چاہیے۔
لیکن ہر کوئی میوزیم کے طرز عمل اور جواب سے متفق نہیں ہے۔
ایڈورا ڈیپرولیبل کیٹ کے نام سے ایک صارف نے میوزیم کے نام لکھا کہ ٹوائلٹ کی پیشکش کر کے صدر کی بے عزتی کرنے کا شکریہ۔ پلیز اس بار میری جانب سے سالانہ عطیے کی توقع نہ کیجیے گا۔ میں نے ٹرمپ کے لیے ووٹ کیا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے عطیات کی ضروت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ امریکی خاتون اول اور صدور کے لیے وائٹ ہاؤس کی آرائش کے لیے آرٹ کے نادر نمونے بطور ادھار لینا معمول کی بات رہی ہے۔