آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملکہ کی آخری رسومات کے مہمان: کون مدعو اور کون نہیں؟
ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پیر 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی اور کہا جا رہا ہے کہ یہ شاہی خاندان کی شخصیات اور سیاستدانوں کا اتنا بڑا اجتماع ہوگا جس کی مثال گزشتہ کئی عشروں میں دکھائی نہیں دیتی۔
سنیچر اور اتوار کو اکثر مدعوئین کو دعوت نامے بھیج دیئے گئے تھے اور توقع ہے کہ 500 کے قریب سربراہان مملکت اور دیگر غیر ملکی مہمان ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
اکثر عالمی رہنماؤں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ عام پروازوں سے برطانیہ آئیں اور انھیں بتا دیا گیا ہے کہ انھیں مغربی لندن میں ایک ہی مقام پر ٹھہرایا جائے گا۔
ملکہ کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبی میں ادا کی جائیں گی جہاں تقریباً دو ہزار دو سو افراد کی گنجائش ہے۔
اب تک کی معلومات کے مطابق جو شخصیات ان رسومات میں شرکت کریں گی یا نہیں کریں گی، ان کی تفصیل یہ ہے۔
یورپ کے شاہی خاندان
توقع ہے کہ یورپ بھر سے کئی شاہی خاندان لندن آئیں گے، جن میں سے اکثر ملکہ کے رشتہ دار ہیں۔
بلجیئم کے شاہ فلپ اور ملکہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ آخری تقریبات میں شرکت کریں گے۔ اسی طرح نیدر لینڈ کے شاہ ولیم الیگزینڈر اور ان کی اہلیہ، ملکہ میکسیما نے بھی بادشاہ کی والدہ اور سابقہ ملکہ کے ہمراہ تقریبات میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔
ان کے علاوہ سپین کے شاہ فلپ اور ملکہ لیٹزیا کے ساتھ ساتھ ناروے، سویڈن، ڈنمارک اور مناکو کے شاہی خاندانوں نے تقریبات میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدور
واہٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ، خاتون اول جِل بائیڈن بھی تقریبات میں شرکت کریں گے، تاہم کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر اور خانون اوًل دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے بذریعہ بس ویسٹ منسٹر پہنچیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
چند دنوں سے اس حوالے سے خاصی بحث ہو رہی ہے کہ آیا صدر بائیڈن اپنے پیشرو، ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ساتھ آنے کی دعوت دیں گے یا نہیں، لیکن چونکہ مہمانوں کی تعداد محدود ہو گی اس لیے ضروری نہیں کہ سابق امریکی صدور بھی صدر بائیڈن کے ساتھ برطانیہ آ سکیں۔
یہ افواہی بھی گردش میں ہیں کہ کہ شاید کچھ سابق امریکی صدور اور خواتین اوًل، خاص طور پر اوباما اور ان کی اہلیہ کو برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے نجی حیثیت میں مدعو کیا جا ئے۔
سنہ 1977 سے 1981 تک امریکہ کے صدر رہنے والے، مسٹر جمی کارٹر کے دفتر کے مطابق انھیں شرکت کا دعوت نامہ نہیں مِلا ہے۔
دولتِ مشترکہ کے رہنما
توقع ہے کہ دولتِ مشترکہ میں شامل تمام ممالک کے سربراہان آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ اپنے پورے عہد میں دولت مشترکہ کی سربراہ رہی ہیں۔
دولت مشترکہ کے ممالک میں سے آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز دعوت قبول کر چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن اور کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی شرکت کی حامی بھر چکے ہیں۔
ان کے علاوہ توقع ہے کہ دولت مشترکہ کے ممالک میں ملکہ کی جانب سے تعینات کئی گورنر جنرل بھی اپنے اپنے سربراہان مملکت کے ساتھ آخری رسومات میں موجود ہوں گے۔
اطلاعات کے مطابق طویل عرصہ تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہنے والی رہنما، شیخ حسینہ اور سری لنکا کے صدر رانل وکرمسنگھے نے بھی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ انڈیا کی نمائندگی ملک کے صدر کریں گے۔
دیگر عالمی رہنما
جن دیگر عالمی رہنماؤں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے ملکہ کی آخری تقریبات میں شرکت کی تصدیق کی ہے ان میں آئرلینڈ کے مائیکل مارٹن، جرمن صدر، اطالوی صدر، اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن بھی شامل ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یئول اور برازیلی صدر جیر بورسنارو نے بھی تصدیق کی ہے کہ تقریبات میں شریک ہوں گے۔
جن دیگر عالمی شخصیات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی لندن آئیں گی، ان میں جاپان کے بادشاہ، ترکی اور فرانس کے صدور شامل ہیں۔
معلوم نہیں کہ چینی صدر شی جن پنگ کو ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی جائے گی اور آیا وہ یہ دعوت قبول کریں گے یا نہیں۔ یاد رہے کہ کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے چینی صدر ملک سے باہر نہیں گئے تھے اور وہ اِسی ہفتے قزاقستان اور ازبکستان کے دورے پر نکلے ہیں۔
برطانوی دفترِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق ایران کی نمائندگی محض ایرانی سفیر کی حد تک ہو گی۔
جن کو مدعو نہیں کیا گیا
بی بی سی کے نامہ نگار جیمز لینڈیل کا کہنا ہے کہ روس، بیلاروس اور میانمار کی نمائندگی کے لیے کسی شحٰیت کو دعوت نہیں دی گئی ہے۔
یوکرین پر روس کی چڑھائی کے بعد سے برطانیہ اور روس کے درمیان تعلقات بالکل منقطع ہو چکے ہیں اور گذشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمر پوتن کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ صدر آخری رسومات میں ’شرکت نہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ فروری 2021 میں میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے برطانیہ نے وہاں اپنی سفارتی موجودگی بھی خاصی محدود کر دی ہے۔