دارفور: امدادی کارکنوں کے انخلاء کی مذمت

سوڈان کے صدر عمر البشیر
،تصویر کا کیپشنسوڈان کے صدر نے غیر ملکی کارکنوں کو متنبہ کیا کہ وہ ملکی قوانین کا احترام کریں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے سوڈان کے علاقے دارفور سے گزشتہ ہفتے غیر ملکی امدادی کارکنوں کے انخلاء کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول کہا ہے۔ انہوں نے یہ بیان وائٹ ہاؤس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کے بعد دیا۔

سوڈان نے جرائم کی عالمی عدالت کی طرف سے صدر عمر البشیر کے مبینہ جنگی جرائم کی بنیاد پر وارنٹ جاری ہونے کے بعد ایک سو تیرہ امدادی تنظیموں کو اپنا کام بند کر کے ملک سے چلے جانے کے لیے کہا تھا۔ ان تنظیموں نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ کسی سیاسی پروگرام پر کام کر رہی تھیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ وہ سوڈان میں امن کے قیام کے لیے پر موثر پیغام دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان امدادی اداروں کی سوڈان میں واپسی ممکن بنا سکیں۔

اس سے قبل منگل کو خرطوم میں امریکی سفارتخانے نے کہا تھا کہ وہ اپنے تمام غیر ضروری عملے کو واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ امدادی تنظیموں کو ملک سے نکال کر دس لاکھ سے افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ دارفور میں میں تقریباً ستائیس لاکھ افراد بے گھر ہونے کے بعد امدادی اداروں سے مدد لے رہے تھے۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ سن دو ہزار تین میں سیاہ فام افریقیوں کی طرف سے عرب نسل کے حکمرانوں کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے بعد سے تقریباً تین لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے اتوار کو دارفور کا دورہ کیا اور تمام غیر ملکی کارکنوں کو متنبہ کیا کہ وہ سوڈان کے قوانین کا احترام کریں یا ملک چھوڑ دیں۔

جرائم کی عالمی عدالت نے چار مارچ کو صدر بشیر پر جنگی جرائم کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیے تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی صدر کے خلاف کے خلاف اس عدالت نے اس طرح کا حکم جاری کیا ہے۔

صدر بشیر نے ہمیشے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت نے جنجوید جنگجؤوں کی مدد کی تھی۔ ان جنگجؤوں پر شہریوں کے خلاف گھناؤنے جرائم کے ارتکاب کے الزامات لگائے گئے ہیں۔