بنیام محمد کا برطانیہ پر الزام

بنیام محمد
،تصویر کا کیپشنمجھے زندگی میں واپس آنے میں وقت لگے گا: بنیام محمد

گوانتانامو کی جیل سے رہائی پانے والے برطانوی شہری بنیام محمد نے الزام لگایا ہے کہ اگر ان کے معاملے میں برطانیہ کا ہاتھ نہ ہوتا تو انہیں زبردستی امریکہ کے حوالے نہ کیا جاتا اور نہ ہی ان پر تشدد ہوتا۔

گزشتہ ماہ رہائی پانے کے بعد بی بی سی کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے تیس سالہ بنیام محمد کا کہنا تھا کہ انہیں تفتیش کاروں نے دو فائلیں دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں سے ایک فائل امریکہ کی تیار کردہ ہے جبکہ دوسری برطانیہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور اگر ثبوت دستیاب ہوں تو سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔

بنیام محمد کے معاملے میں برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان پر ہونے والے مبینہ تشدد کو جائز نہیں سمجھتی، لیکن وہ بنیام محمد کے تشدد کے دعوے کی تفتیش کرے گی۔ واضح رہے کہ امریکہ نے بنیام محمد کے خلاف اپنے تمام الزامات واپس لے لیے ہیں۔

کسی خفیہ مقام پر بنیام محمد کا انٹرویو لینے والے بی بی سی کے نامہ نگار جون مینل کا کہنا ہے کہ بنیام محمد ’بہت دبلے‘ دکھائی دے رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔

بنیام محمد کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ واپس پہنچنے کے بعد گزشتہ ماہ سے لوگوں کو بتانا چاہتے تھے کہ ان پر کیا گزری ہے۔ انہوں نے کہا: ’مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں آزاد ہو گیا ہوں۔ حتیٰ کہ میں اب بھی خود کو آزاد نہیں سمجھتا۔ میں سات سال تک مکمل تاریکی میں رہا ہوں۔ مجھے زندگی میں واپس آنے میں وقت لگے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں اب چیزوں کو دوسرے لوگوں کی طرح محسوس نہیں کر پاتا۔ میں ابھی تک خوشی یا غم کے احساسات سے عاری ہوں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے اب مجھے کسی شے کی پرواہ نہیں۔‘ ان کہنا تھا کہ چھ سال دس ماہ کی حراست نے انہیں ’مردہ‘ کر دیا ہے۔

ایم آئی فائیو کا کردار

بنیام محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حراست کے دوران برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے جون نامی ایک افسر نے ان سے تین گھنٹے تک انٹرویو لیا۔ بنیام محمد کے مطابق اس افسر کا بظاہر کردار امریکی تفتیش کاروں کی معاونت کرنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان میں تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ہی برطانیہ اس معاملے میں ملوث نہ ہوتا، اور اگر ایم آئی فائیو امریکیوں کو نہ بتاتی کہ مجھے بولنے پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے، میرا خیال نہیں کہ مجھے پاکستان کے بعد مراکش لیجایا جاتا۔‘

’مجھے اگلے سات سال جن حالات سے گزرنا پڑا، یہ ایم آئی فائیو کی اسی ابتدائی معاونت کا نتیجہ ہے۔‘

ایم آئی فائیو کے مذکورہ تفتیش کار پہلے ہی برطانوی ہائی کورٹ میں بنیام محمد کے الزامات سے انکار کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے تفتیش کے دوران نہ تو بنیام محمد کو کوئی دھمکی دی اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا تھا۔

بنیام محمد کا مزید کہنا تھا کہ جولائی سنہ دو ہزار دو میں جب انہیں مراکش میں کسی خفیہ مقام پر لیجایا گیا تو وہاں مقامی تفتیش کاروں نے ان سے وہ سوالات پوچھے جو ان لوگوں کو برطانوی خفیہ ادارے کے کارندوں نے فراہم کیے تھے۔ انکے مطابق مقامی تفتیش کاروں نے انہیں برطانیہ میں رہنے والے ہزاروں مسلمان مردوں کی تصاویر بھی دکھائی تھیں۔ بنیام محمد کے بقول ایک مقامی تفتیش کار نے انہیں دو فائلیں دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں سے ایک امریکی فائل ہے اور دوسری برطانوی۔

انہوں نہ کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مراکشی تفتیش کاروں نے ان سے جو سوالات کیے، ان میں سے ستر فیصد برطانیہ کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔

انٹرویو کے دوران بنیام محمد کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردی کے کسی منصوبے کا حصہ نہیں رہے اور نہ ہی گیارہ ستمبر سے پہلے انہوں نے دہشتگردی کی کوئی تربیت لی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کبھی القاعدہ کے لیے کام کیا ہے تو بنیام محمد کا جواب تھا: ’مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ القاعدہ کے لیے کام کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ آپ القاعدہ کے کارندے بنتے کیسے ہیں۔؟‘