’افغانستان کی صورتحال چوپٹ‘

ڈحوڈ ملی بینڈ
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ ملی بینڈ نے یہ بات یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہی

برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ برطانیہ، امریکہ اور اتحادی افواج کی افغانستان کے کئی علاقوں میں کارروائی میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے اور انہیں چوپٹ صورتحال کا سامنا ہے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے کچھ علاقوں میں اتحادی فوج کی عسکری حکمت عملی ناکام ہوئی ہے۔

تاہم ان کے مطابق ’یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ ان علاقوں میں طالبان ہماری افواج پر حاوی ہے کیونکہ روایتی انداز کی جھڑپوں میں ان کو شکست ہوتی۔ لیکن کیونکہ وہ ایک دہشت گرد اور مزاحمتی تحریک ہے اس لیے وہ ہماری فوج اور علاقے کے شہریوں کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

برطانوی وزیر خارجہ نے یہ بات برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے بعد کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید اور بہتر افواج کی ضرورت ہے۔ مسٹر ملی بینڈ نے ڈنمارک اور نیدرلینڈز کے افغانستان میں کردار کو سراحا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب دوسرے یورپی ممالک کو بھی اس میں زیادہ کرادر ادا کرنا چاہیے اور مزید فوجیں افغانستان بھیجنی چاہییں۔

ملی بینڈ اور کلنٹن
،تصویر کا کیپشنملی بینڈ نے امریکی وزیر خارجہ سے دو روز پہلے ملاقات میں افغاسنتان کے معاملے پر بات کی

مسٹر ملی بینڈ نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کے تمام ممالک افغانستان مِشن میں برابر کا حصہ ڈالیں کیونکہ اس وقت کچھ ممالک پر زیادہ بوجھ ہے کچھ پر بہت کم۔برسلز کے اجلاس میں یورپی وزرائے خارجہ نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے جس میں افغانستان میں پولیس کی تربیت کے لیے مزید اہلکار بھیجنے کی تجویز کی گئی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما اگلے ہفتے افغان پالسی کے حوالے سے جائزے کے بعد تبدیلیوں کا اعلان کریں گے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس کے بارے میں بات کرنے کے لیے بدھ کو اپنے امریکی ہم منصب ہلری کلنٹن سے بھی ملاقات کی تھی۔

امکان ہے کہ امریکی صدر کی تجاویز میں تقریباً سترہ ہزار مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے کی تجویز کے علاوہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مزید سویلین ماہرین کو بھی بھیجنا شامل ہوگا۔