طالبان سے مذاکرات پر نظرثانی

طالبان
،تصویر کا کیپشنمباحثہ ہو رہا ہے کہ آیا طالبان سےمذاکرات کیے جانے چاہیں یا نہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے افغانستان میں طالبان سے بات چیت پر نظرثانی کرنے کی نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے امید کی جاتی ہے کہ خطے میں بڑھتی ہو شورش کو روکا جا سکےگا۔یہاں بی بی سی کے سیکورٹی کے نامہ نگار گورڈن کریرا اس بات پر اپنا مباحثہ پیش کرتے ہیں کہ کیا طالبان سے مذاکرات کارفرما ہو سکتے ہیں۔

اوباما کی میز پر آج کل ملا عبدالضعیف کی کتاب پڑی ہوئی ہے، یہ فرانسیسی زبان میں ان کے اس وقت کی آپ بیتی ہے جب وہ گوانتنامو کے قیدی تھے۔

ملا عبدالضعیف افغانستان میں طالبان کی حکومت سے قبل پاکستان میں اس کے سفیر رہ چکے ہیں۔گرفتاری کے بعد انھوں نے تین سال امریکہ کی قید میں گزارے۔ آج کل اب وہ کابل سے کچھ دور مسلح گارڈز کے ساتھ ایک گھر میں مقیم ہیں۔

وہ اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات ضروری ہیں۔ بلکہ ان کے مطابق امریکہ کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ طالبان سے کچھ شرائط کے تحت بات چیت شروع کرے۔

اوباما کا خیال ہے کہ طالبان کواس بات کا شبہ ہے کہ مذاکرت کی آڑ میں یہ انہیں کمزور کونے کی کوشش ہے۔طالبان کی شرط ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کی جائیں اور طالبان لیڈروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے دوسرے فریق کا ہونا لازمی ہے اور ضعیف اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ طالبان ایک مضبوط اور مربوط تحریک ہیں جس نے حکومت کے متوازی اپنی ایک اور حکومت بنا رکھی ہے جو افغانستان کے بشتر علاقوں میں انصاف فراہم کرتی ہے۔

اس درمیان بہت سی اندرونی طور پر رپوٹیں مرتب کی گی ہیں جو اس بات پر مباحثہ کر رہی ہیں کہ آیا مذاکرات کیے جانے چاہیں یہ نہیں۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی غورو ہو رہا ہے کہ کیا غیر ملکی افواج کے انخلاء سے پہلے طالبان کو لڑائی بند کرنا ہو گی یا نہیں۔

ملا عبدل ضعیف کے مطابق ملا عمر اب بھی طالبان کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا ’وہ واقعی ان کے رہنما ہیں۔ طالبان اب بھی ان کے کنٹرول میں ہیں اور ان کے مقابلے کا اور کوئی لیڈر موجود نہیں‘۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ملا عمر نے حال میں قندھار کا نیا کمانڈر منتخب کیا ہے اور وہاں کے کمانڈر کو جلال آباد کی کمانڈ دی ہے۔ یہ ساری تبدیلی انہوں نے زبانی پیغامات اور کچھ خطوط کے ذریعے کی ہے۔

ملا ضعیف
،تصویر کا کیپشنملا ضعیف اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں

کہنے کو طالبان کا ایک ہی لیڈر ہے مگر تجزیہ نگار اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ موجودہ شورش میں کئی عوامل ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بعض اوقات موقہ پرست عناصر، کبھی نظریاتی وجوہات تو کبھی پیسوں کے لالچ میں اس میں حصہ لیتے ہیں ۔ جنوبی علاقوں میں کوئٹہ شوریٰ اور ملا عمر کا غلبہ ہے۔ یہاں ان کا زور غیر ملکی افواج کے انخلاء اور نفاذ شریعت پر ہے۔

مگر مشرقی علاقوں میں جنگجؤوں کا تعلق پاکستان کے علاقے وزیرستان سے ہے جہاں وہ غیرملکی القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ دیگر گروپوں میں گلبدین حکمت یار کی جماعت بھی شامل ہے جو آج کل امریکی افواج سے لڑائی میں ملوث ہیں۔

ان مذکرات میں پیش ایک نام سابق مجاہدین کمانڈر عبدلانس کا بھی ہے جو انیس سواسی کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف لڑ چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تیس سالوں سے افغانستان کے پڑوسی اور باہر کے ممالک نے اپنے مقاصد کے لیے افغانستان کے مخالف گروہوں سے رابطہ رکھا۔ انہوں نے کہا: ’ہر ایک چاہتا ہے کہ افغانستان کو وہ اپنے قابو میں کر لے، مگر تیس سالوں میں اس پر کوئی بھی غلبہ نہیں پا سکا‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں استحکام صرف اس صورت میں آ سکتا ہے جب اس کے تمام مختلف حریف گروہوں کو سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔