اوباما کی ایران کو ’نئے آغاز ‘ کی پیشکش

امریکی صدر براک اوباما نے ایرانی عوام سے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ رابطوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے یہ بات ایرانی عوام کے نام ایک ویڈیو پیغام میں کہی۔امریکی صدر کے اس پیغام کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کا یہ پیغام ایران میں آمدِ بہار کے موقع پر جشنِ نوروز کے سلسلے میں دیا گیا ہے۔
پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ ’میری انتظامیہ کی پوری کوشش ہو گی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے‘۔ براک اوباما نے کہا کہ ’وہ ایران کے عوام اور رہنماؤں سے براہ راست بات کرنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ کا تہیہ ہے کہ ’امریکہ، ایران اور دنیا کے درمیان مثبت روابط قائم ہوں‘۔
تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ ’امن کا یہ عمل دھمکیوں سے آگے نہیں بڑھے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ رابطے دیانتداری اور باہمی احترام پر مبنی ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کو عالمی برادری میں اپنا جائز مقام حاصل ہو۔ ایران کو یہ حق حاصل ہے لیکن یہ حق ذمہ داریوں کے بغیر نہیں ملے گا۔
صدر اوباما کا یہ پیغام فارسی میں ذیلی پٹی کے ساتھ وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر بھی لگایا گیا ہے۔صدر نے اپنے اس پیغام میں ایران کے ساتھ روابط کی بات تو کی ہے لیکن اس کے طریقۂ کار کی تفصیل بیان نہیں کی۔
ادھر ایران نے بھی امریکی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو ماضی کی غلطیوں کی درستگی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے پریس مشیر علی اکبر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم امریکی صدر کی اس خواہش کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ ماضی کے اختلافات بھلا دیے جائیں۔ لیکن اختلافات بھلانے کے لیے امریکی انتظامیہ کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور انہیں صحیح کرنے کی کوشش کرنا ہو گی‘۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کو ’ الفاظ سے آگے بڑھ کر اقدامات کرنے ہوں گے اور اگر اوباما اقدامات لینے پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں تو ایرانی حکومت منہ نہیں موڑے گی‘۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن بیل کے مطابق یہ پیغام سابق صدر جارج بش کی پالیسیوں سے بالکل مختلف ہے۔ تاہم صدر اوباما نے اپنے پیغام میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پرانی رنجشیں بھلانی اتنی آسان نہیں ہوں گی۔ خیال رہے کہ صدر بش ایران کو 'برائی کا محور‘ قرار دیتےرہے تھے۔















